ویب ڈیسک: سیکرٹری پیٹرولیم نے خبردار کیا ہے کہ 14 اپریل کے بعد ملک میں ایل این جی دستیاب نہیں ہوگی جس کے باعث اپریل میں پاور سیکٹر کی گیس کی ضروریات پوری نہیں کی جا سکیں گی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس سینیٹر منظور احمد کی زیر صدارت ہوا جس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور دستیابی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کو تقریباً 70 فیصد پیٹرولیم مصنوعات مشرقِ وسطیٰ سے حاصل ہوتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ عام حالات میں عرب ممالک سے تیل چار سے پانچ دن میں پاکستان پہنچ جاتا ہے تاہم اس وقت جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہونے کے باعث ترسیل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
سیکرٹری پیٹرولیم کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 88 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 187 ڈالر جبکہ پیٹرول کی قیمت 74 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 130 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
اجلاس کے دوران سینیٹر منظور احمد نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کا فائدہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پہنچایا گیا، تاہم سیکرٹری پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافہ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے کیا گیا اور اس اقدام سے کمپنیوں کو فائدہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق قیمتیں بڑھانے سے درآمدات جاری رکھنے اور ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی یقینی بنانے میں مدد ملی۔
اجلاس میں سینیٹر ہدایت اللہ نے سوال کیا کہ 7 مارچ سے پہلے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت کیا تھی اور اس میں کتنا اضافہ ہوا۔ اس پر اوگرا حکام نے بتایا کہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 100 فیصد جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 70 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سیکرٹری پیٹرولیم نے مزید بتایا کہ اس وقت ملک میں خام تیل کے 11 دن، ڈیزل کے 21 دن، پیٹرول کے 27 دن، ایل پی جی کے 9 دن اور جے پی ون کے 14 دن کے ذخائر موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والوں کے لیے حکومت ریلیف پیکیج پر بھی کام کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق 14 اپریل کے بعد ملک میں ایل این جی دستیاب نہیں ہوگی جس کے باعث اپریل میں پاور سیکٹر کی گیس کی ضرورت پوری نہیں ہو سکے گی اور اس کی ضروریات دوسرے ذرائع سے پوری کی جائیں گی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آذربائیجان کی کمپنی سے ایل این جی خریدی جا سکتی ہے تاہم اسپاٹ مارکیٹ میں اس کی قیمت 24 ڈالر تک ہو گی جبکہ قطر سے گیس تقریباً 9 ڈالر میں دستیاب ہے۔