(ویب ڈیسک ) وزیر اعظم نے کہا کہ پاک فضائیہ نے شاہینوں نے دشمن کے 6 جہاز مار گرائے۔ہمارے بہادر سپوتوں نے دشمن کی خطے کی تھانیداری کا بت پاش پاش کردیا۔ہمارے شاہینوں نے دشمن کے رافیل کو فیل کردیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم تشکر کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وطن عزیز پر جانیں نچھاور کرنے والے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں۔اللہ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے ہمیں عظیم کامیابی دی۔الحمد اللہ ، قوم کی دعاؤں ، لگن اور ہماری افواج کے جذبے سے آج سرخرو ہوئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ اللہ کا خصوصی فضل ہوا اور افواج پاکستان نے دشمن کا غرور خاک میں ملادیا۔بھارت نے پہلگا واقعہ کی غیر جانبدرانہ عالمی تحقیقات کی پیشکش کو ٹھکرایا۔بھارت نے ہماری مخلصانہ پیشکش کا مثبت جواب دینے کی بجائے جارحیت کا راستہ اختیار کیا۔دشمن نے جارحیت میں ہمارے بچوں سمیت نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات بھارت نے بیلسٹک میزائل فائر کیے۔ساری صورتحال میں عسکری قیادت میرے ساتھ مکمل رابطے میں تھی۔ہم نے فیصلہ کیا کہ دشمن کے منہ پر ایسا تھپڑ رسید کریں گے جسے وہ بھول نہیں سکے گا۔10 مئی کی صبح پاکستان نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاک فضائیہ نے معرکہ حق کے دودران نئی تاریخ رقم کی۔پاکستان کے جواب نے چند گھنٹے میں پورا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا۔ پاک فضائیہ نے شاہینوں نے دشمن کے 6 جہاز مار گرائے۔ہمارے بہادر سپوتوں نے دشمن کی خطے کی تھانیداری کا بت پاش پاش کردیا۔ہمارے شاہینوں نے دشمن کے رافیل کو فیل کردیا۔اللہ تعالیٰ نے پانے خصوصی کرم سے 24 کروڑ عوام کو سرخرو کیا۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے۔یہ ملک لاکھوں قربانیوں اور عظیم جدوجہد سے وجود میں آیا۔ہمیں اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ماضی میں جائے بغیر ہمیں آگے بڑھنا ہے۔قومی وحدت اور اخوت کو سرمایہ حیات بنانا ہے۔مل کر وطن عزیز کو اقوام عالم میں بلند مقام دلانا ہے۔اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے پناہ وسائل سے مالا مال کیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کشیدہ صورتحال میں یکجہتی کے اظہار پر دوست ملکوں کے شکر گزار ہیں ۔کشیدگی میں کمی کیلئے صدر ٹرمپ کے اہم کردار کا معترف ہوں۔امن کیلئے امریکی صدر نے قائدانہ کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا پاکستان خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے۔پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں کارروائی کی۔پرامن ہمسایوں کی طرح ہمیں مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔بات چیت کے ذریعے ہی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔خطے کی خوشحالی کیلئے مسائل حل کرنا ہونگے۔خطے میں پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔