ویب ڈیسک: پنجاب میں سی سی ڈی کی کارروائیوں کے باوجود خواتین سے جنسی ہراسانی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں مزید دو خواتین کو ہراساں کرنے کی ویڈیوزسوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق گوجرانولہ کےعلاقہ محلہ غلام حسین والا گلی میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جب ایک طالبہ ٹیوشن پڑھ کےگھرکوجا رہی تھی پیچھے سے ایک اوباش نوجوان نے اس کو اکیلےدیکھ کرہراساں کرنے کی کوشش کی۔دوسری جانب سیالکوٹ میں ایک اور بچی کو ہراساں کرنے کا واقعہ پیش آیا۔
گوجرانولہ کےعلاقہ محلہ غلام حسین والا گلی میں ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیاہےایک طالبہ ٹیوشن پڑھ کےگھرکوجا رہی تھی پیچھے سے نیلی شرٹ میں ملبوس ایک اوباش نے اس کو اکیلےدیکھ کرہراساں کرنے کی کوشش کی..!
— Ather Salem® (@Atharsaleem01) September 15, 2025
سی سی ڈی سے گزارش ہے کہ اس کو انسان بنایا جائے... pic.twitter.com/s9FAy5efla
سیالکوٹ میں ایک اور بچی کو ہراساں کرنے کا واقعہ
— Dr Shama Junejo (@ShamaJunejo) September 16, 2025
اس شخص کے نیفے میں پستول کب چلے گا؟
pic.twitter.com/xRofcRWIQZ
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ نیفے میں پستولیں چل بھی رہی ہیں پھر بھی کام جاری و ساری یا سرعام کسی ایک مجرم کو بھری عوام میں انکاؤنٹر کیا جائے، لاش کو گھسیٹا جائے، شاید لوگوں کے دماغ میں خوف پیدا ہوجائے۔
ایک صارف نے لکھا نیفے میں پستول اور بجلی کے کھمبے سے ٹکرا کر ہاتھ ٹوٹنے سے ان لوگوں نے باز نہیں آنا ،ایک دو کو اپنے ہاتھوں سے دماغ میں پستول چلا کر خودکشی کرنے سے ہی باز آئیں گے یہ لوگ۔ایک شخص نے لکھا نیفے میں پستول چلانےکی سزا کم ہے
ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ دنیا میں کافی بدروحیں موجود ہیں ،بہنوں کو اپنا دفاع کرنا سیکھنا چاہیے ورنہ گھر سے اکیلے نکلنا ناممکن ہو جائے گا۔