ویب ڈیسک: زمین سے 124 نوری سال دور واقع ایک دیوقامت سیارے K2-18 b پر ممکنہ طور پر زندگی کے آثار دریافت ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی حالیہ مشاہدات میں دو ایسے کیمیکلز کی شناخت ہوئی ہے جو زمین پر زندگی کی علامت کے طور پر پہچان رکھتی ہے۔
ان کیمیکلز کا نام ڈائیمتھائل سلفائیڈ (DMS) اور ڈائیمتھائل ڈسلفائیڈ (DMDS) ہے۔ تاہم ان کیمیکلز کی موجودگی خلائی حیات کا حتمی ثبوت نہیں، تاہم یہ دریافت اس سوال کے قریب تر لا سکتی ہے کہ "کیا ہم کائنات میں اکیلے ہیں؟"
کیمبرج یونیورسٹی کے ماہر فلکیات پروفیسر نکو مدھو سدن نے اس تحقیق کی قیادت کی ہے اور انہوں نے اسے اب تک کا "زندگی کے ممکنہ آثار کا سب سے مضبوط اشارہ" قرار دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے محتاط رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نہ صرف سگنل کی صداقت بلکہ اس کے مطلب پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ "یہ وہ لمحہ ہو سکتا ہے جب ہم کائنات میں زندگی کے وجود کے حوالے سے فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہوں۔"
K2-18 b: ایک ممکنہ 'سمندری دنیا'
سیارہ K2-18 b، زمین سے 2.6 گنا بڑا اور 9 گنا زیادہ وزنی ہے، اور اپنے ستارے سے اتنے فاصلے پر گردش کر رہا ہے جو "قابلِ رہائش" علاقے میں آتا ہے۔ اس کا ستارہ سورج سے چھوٹا اور سرد سرخ (Red Dwarf) ہے۔
2019 میں ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ نے اس سیارے کے ماحول میں پانی کی موجودگی کے آثار ظاہر کیے تھے، تاہم بعد ازاں واضح ہوا کہ یہ سگنل میتھین کا تھا۔ حالیہ مشاہدات میں DMS اور DMDS کی موجودگی کے ممکنہ آثار سامنے آئے ہیں، جو زمین پر زیادہ تر سمندری کائی (phytoplankton) سے پیدا ہوتے ہیں۔
کیا یہ واقعی زندگی کی علامت ہے؟
پروفیسر مدھو سدن کا کہنا ہے کہ یہ سگنلز حیران کن طور پر مضبوط اور واضح ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ ہم کسی قابلِ رہائش سیارے کے ماحول میں ایسے مالیکیولز کا سراغ لگا پائے ہیں۔
تاہم، تمام سائنسدان اس حوالے سے متفق نہیں۔ بعض ماہرین کے مطابق K2-18 b کی اصل نوعیت ابھی واضح نہیں اور ممکن ہے کہ یہ گیس پر مشتمل سیارہ ہو یا اس کے سمندر پانی کی بجائے لاوے (magma) سے بھرے ہوں۔
یونیورسٹی آف برن کی کیمیا دان ڈاکٹر نورا ہینی نے خبردار کیا کہ DMS جیسا مرکب برفیلے شہابیوں میں بھی پایا گیا ہے، اس لیے یہ زندگی کی واحد علامت نہیں ہو سکتا۔ دیگر ممکنہ ذرائع میں آتش فشانی سرگرمیاں یا بجلی کی چمک سے بننے والے غیر روایتی کیمیائی عمل شامل ہو سکتے ہیں۔
زندگی کی تلاش: اگلا قدم کیا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے دور سیاروں پر "زندگی کے ناقابل تردید ثبوت" ملنا شاید ممکن نہ ہو، تاہم یہ دریافت خلائی حیات کی تلاش میں ایک اہم قدم ضرور ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ زندگی کی موجودگی کا بہتر ثبوت "ٹیکنوسگنیچرز" یعنی کسی ترقی یافتہ مخلوق کا سگنل یا پیغام ہو سکتا ہے۔
کیمبرج کے پروفیسر نے آخر میں کہا، "فلکیات میں مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ ہم وہاں جا کر خود دیکھیں، بلکہ ہم کائناتی قوانین کے ذریعے نتائج اخذ کرتے ہیں۔"