'' ٹرانس خواتین حیاتیاتی عورت نہیں'':برطانوی عدالت کا تاریخی فیصلہ

'' ٹرانس خواتین حیاتیاتی عورت نہیں'':برطانوی عدالت کا تاریخی فیصلہ
کیپشن: '' ٹرانس خواتین حیاتیاتی عورت نہیں'':برطانوی عدالت کا تاریخی فیصلہ

ویب ڈیسک: برطانیہ کی اعلیٰ عدالت نے ایک اہم مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے عورت کی قانونی تعریف کو واضح کر دیا ہے، جس کے مطابق ٹرانس خواتین کو مساوات ایکٹ 2010 کے تحت حیاتیاتی عورت تصور نہیں کیا جا سکتا۔

یہ مقدمہ "فار ویمن سکاٹ لینڈ" نامی تنظیم نے اسکاٹ لینڈ میں دائر کیا تھا، جہاں ابتدائی طور پر انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم برطانوی عدالت میں نظرثانی کے بعد تنظیم کو کامیابی حاصل ہوئی۔

ٹرانس کمیونٹی میں تشویش، حکومت کی حمایت
اس فیصلے پر ٹرانس جینڈر کمیونٹی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ٹرانس افراد کے لیے ملازمت کے مواقع اور سماجی قبولیت کو مزید مشکل بنا دے گا۔

تاہم برطانوی حکومت نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے " عورت کی تعریف میں موجود ابہام ختم ہو گیا ہے"۔

عدالت کا مؤقف: ’خاتون‘ صرف حیاتیاتی عورت کے لیے
برطانوی سپریم کورٹ کے ڈپٹی صدر جسٹس پیٹرک ہاج نے فیصلے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا:

"عدالت نے متفقہ طور پر یہ رائے دی ہے کہ مساوات ایکٹ 2010 میں ’ عورت‘ اور ’جنس‘ کی اصطلاحات صرف حیاتیاتی بنیادوں پر ہیں۔"
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کسی ایک گروہ کے خلاف نہیں بلکہ قانونی وضاحت کے لیے دیا گیا ہے۔

پناہ گاہوں، اسپتالوں اور کھیلوں میں بھی اثرات متوقع
فیصلے کے مطابق اب ٹرانس خواتین کو وہ خصوصی سہولیات حاصل نہیں ہوں گی جو صرف حیاتیاتی خواتین کے لیے مخصوص تھیں، جیسے کہ پناہ گزین کیمپ، مخصوص اسپتال وارڈز، اور خواتین کے کھیلوں میں شرکت۔

یہ فیصلہ مستقبل میں پبلک پالیسی، ہیلتھ کیئر، اور کھیلوں کی دنیا میں دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

ٹرانس رائٹس پر بڑھتی کشیدگی
واضح رہے کہ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں ٹرانس رائٹس ایک شدید سیاسی اور سماجی مسئلہ بن چکے ہیں۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ شناخت کی سیاست کو اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، جب کہ دیگر حلقے اسے حیاتیاتی خواتین کے حقوق کے تحفظ کا لازمی اقدام قرار دیتے ہیں۔

Watch Live Public News