روس نے افغان طالبان کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا

روس نے افغان طالبان کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا

(ویب ڈیسک )   روس نے جمعرات کے روز افغان طالبان پر لگائی گئی پابندی ختم کر دی ہے، جس کے بعد طالبان کو اب روس میں دہشتگرد تنظیم نہیں سمجھا جائے گا۔ طالبان کو روس نے 2003 میں دہشتگرد قرار دیا تھا، لیکن اب روسی سپریم کورٹ نے یہ پابندی فوری طور پر ختم کر دی ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس افغانستان کے موجودہ حکمران طالبان سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگرچہ دنیا کا کوئی بھی ملک طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا، لیکن روس نے گزشتہ کچھ سالوں میں طالبان کے ساتھ رابطے بڑھائے ہیں۔

 صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی گزشتہ سال کہا تھا کہ طالبان اب دہشتگردوں کے خلاف لڑنے میں روس  کے اتحادی بن چکے ہیں۔

خیال رہے کہ مارچ 2024 میں ماسکو کے قریب ایک کنسرٹ ہال پر حملہ ہوا تھا جس میں 145 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش  نے قبول کی تھی۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ان کے پاس انٹیلی جنس ہے کہ حملے میں داعش کے افغان ونگ "اسلامک اسٹیٹ خراسان" (ISIS-K) گروپ کا ہاتھ تھا۔

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں داعش کے خلاف سخت کارروائیاں کر رہے ہیں تاکہ ان کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

تاہم مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ طالبان کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کا عمل اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے اپنا رویہ نہ بدلیں۔ طالبان نے افغانستان میں لڑکیوں کے اسکولز اور یونیورسٹیز بند کر دی ہیں اور خواتین کو بغیر محرم کے سفر کرنے سے بھی روکا جا رہا ہے۔

 طالبان کا موقف ہے کہ وہ خواتین کے حقوق کو اسلامی قانون کے تحت یقینی بنا رہے ہیں۔

Watch Live Public News