ویب ڈیسک: سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 27 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے سامنے دائر کر دی ہے۔
امکان ہے کہ قیمت میں حقیقی اضافہ 26 پیسے فی یونٹ تک ہو۔ یہ اضافہ مارچ کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت تجویز کیا گیا ہے۔ نیپرا اس درخواست پر 28 اپریل کو سماعت کرے گا، جس میں ممکنہ اضافے کی منظوری پر فیصلہ کیا جائے گا۔
سی پی پی اے کی دستاویزات کے مطابق، مارچ میں مجموعی طور پر 8 ارب 93 کروڑ 90 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ ڈسکوز کو 8 ارب 64 کروڑ 40 لاکھ یونٹس فراہم کی گئیں۔
مارچ کے لیے فی یونٹ فیول لاگت کا ابتدائی تخمینہ 7 روپے 99 پیسے تھا، مگر اصل لاگت بڑھ کر8 روپے 26 پیسے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔ اس دوران بجلی کی پیداوار میں ذرائع کا تناسب درج ذیل رہا:
پانی: 23.55 فیصد
مقامی کوئلہ: 16.76 فیصد
درآمدی کوئلہ: 13.80 فیصد
درآمدی ایل این جی: 5.64 فیصد
فرنس آئل: 1.02 فیصد
مقامی گیس: 11.34 فیصد
جوہری ایندھن: 21.95 فیصد
ہوا (ونڈ): 3.46 فیصد
سولر: 1.18 فیصد
سی پی پی اے کے مطابق، یہ اضافے بجلی کی پیداوار اور فیول لاگت میں اضافہ کی وجہ سے ضروری قرار دیا گیا ہے۔