وزیر اعظم نے سرکاری افسران کے کنڈکٹ،سروس کے قواعد و ضوابط میں ترامیم کی منظوری دیدی

وزیر اعظم نے سرکاری افسران کے کنڈکٹ،سروس کے قواعد و ضوابط میں ترامیم کی منظوری دیدی

(ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری افسران کے کنڈکٹ اور سروس کے قواعد و ضوابط میں ترامیم کی منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق سرکاری افسران کے لئے اثاثہ جات ظاہر کرنے کے حوالے سے قواعد کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے سرکاری افسران پر تحائف ، غیر ملکی ایوارڈز لینے پر پابندی عائد کر دی۔

وزیر اعظم نے احکامات جاری کیے ہیں کہ کوئی سول سرونٹ ذاتی تشہیر کی غرض سے کسی ایونٹ یا پبلک گیدرنگ میں حصہ نہ لے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزیر اعظم کی منظوری کے بعد نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔

سرکاری افسران  کے خاندان کے افراد پر بھی کسی کمپنی، تنظیم، غیر ملکی حکومت یا کسی سفارتکار سے تحفہ لینے پر پابندی ہو گی۔

وزیر اعظم نے یہ بھی احکامات جاری کیے کہ سرکاری طور پر کسی وفد میں شامل ہونے کی صورت میں حاصل ہونے والا تحفہ توشہ خانہ میں جمع ہو گا۔

پاکستان یا پاکستان سے باہر کسی نجی میزبان سے میزبانی قبول کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ سرکاری افسران پر اپنے سے اعلی عہدوں پر تعینات افسران کو تحائف یا قیمتی اشیا دینے پر پابندی کا  حکم بھی دیا گیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق سرکاری فرائض کے علاوہ محکمے کی منظوری سے خیراتی کاموں،  درس و تعلیم کی اجازت ہو گی۔

درس و تدریس یا دیگر ذاتی انگیجمنٹس سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کا 25 فیصد سرکاری خزانے میں جمع کروانا ہو گا۔سول سرونٹ غیر معمولی چھٹی کے دوران بینک، کمپنی، ٹرسٹ یا درس و تدریس کے شعبے میں ملازمت کا حقدار ہو گا۔اپنے سرکاری فرائض کے دائرہ کار میں کسی شخص سے ادھار لینے یا دینے پر پابندی ہو گی۔

سرکاری افسران پر اپنے معیار زندگی کو اپنی آمدن کی مطابقت میں رکھنے کی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کوئی سرکاری افسر اپنے محکمے کے سیکریٹری کی اجازت کے بغیر سرکاری دستاویز غیر  متعلقہ شخص سے شئیر نہیں کرے گا۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کا کہنا ہے کہ سرکاری افسر کو کتاب یا آرٹیکل شائع کرنے سے قبل اپنے متعلقہ محکمہ کے سربراہ سے اجازت لینا ہو گی۔

Watch Live Public News