ویب ڈیسک: بھارتی ریاست بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک گریجویشن تقریب میں مسلم خاتون ڈاکٹر نصرت پروین کا نقاب ہٹانے کے واقعے پر بحث جاری ہے، اور اب خاتون ڈاکٹر نے نوکری نہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ڈاکٹر نصرت کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہوا، وہ ان کے لیے بے عزتی کے مترادف تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نصرت اپنے بڑے بھائی کے پاس کولکتہ چلی گئی ہیں، نصرت نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ وزیراعلیٰ نے جان بوجھ کر ایسا کیا، لیکن جو کچھ وہاں ہوا مجھے پسند نہیں آیا۔ وہاں بہت لوگ موجود تھے، کچھ ہنس رہے تھے۔ ایک لڑکی ہونے کے ناطے یہ میرے لیے ذلت کی بات تھی۔
اس واقعے پر اپوزیشن جماعتیں سخت نکتہ چینی کر رہی ہیں۔ کانگریس، راشٹریہ جنتا دل، سماج وادی پارٹی اور جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں نے نیتیش کمار کی حرکت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ نتیش کمار کی یہ حرکت ناقابل قبول ہے اور کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھہرائی جا سکتی۔
نصرت کے بھائی کا کہنا تھا کہ وہ انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ واقعہ کسی اور کی غلطی ہے اور ڈاکٹر نصرت کو تکلیف محسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔
نصرت کو 20 دسمبر کو میڈیکل سروس میں شامل ہونا تھا، ان کا خاندان ابھی بھی انہیں اپنا فیصلہ بدلنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی ریاست بہار کے شہر پٹنہ میں بی جے پی کے اتحادی بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار ریڈی کے خلاف ایک تقریب میں مسلم خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچنے پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،لکھنو میں سماجی وادی پارٹی کی رہنما سمیہ رانا نے نتیش کمار کے خلاف مقدمہ درج کروایا ہے۔