ویب ڈیسک: امریکا سے ڈی پورٹ کیے گئے غیرقانونی تارکین کو لانے والا ایک اور جہاز انڈیا کے شہر امرتسر پہنچ گیا، اس سے قبل بھی 10 روز کے دوران ایسے دو جہاز انڈیا میں لینڈ کر چکے ہیں۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب پہنچے والے جہاز میں 112 انڈینز موجود تھے۔
غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کے تحت شروع کیا گیا ہے، اور کئی ممالک کے لوگ ڈی پورٹ کیے گئے ہیں۔
امریکی ایئر فورس کے طیارے سی 17 گلوب ماسٹر نے رات گئے امرتسر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر لینڈنگ کی۔اس پر سوار افراد میں 13 کا تعلق پنجاب سے ہے جبکہ 44 ہریانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
اسی طرح گجرات کے 33، اتر پردیش کے دو اور ہماچل پردیش اور اترکھنڈ کا ایک ایک فرد سوار تھا، جن کو لینے کے لیے ان کے رشتہ دار بڑی تعداد میں وہاں پہنچے تھے۔
رپورٹ کے مطابق واپس آنے والوں کی گھروں کو روانگی کچھ ضروری کارروائی پوری کرنے کے بعد ہی ہو گی، جن میں امیگریشن، تصدیق اور کچھ دوسری جانچ پڑتال شامل ہے۔
یاد رہے کہ انڈیا میں امریکا سے ڈی پورٹ کیے گئے افراد کو لانے والا پہلا جہاز پانچ فروری کو پہنچا تھا، جس میں 104 افراد سوار تھے جبکہ دوسرا جہاز ہفتے کو 116 مسافروں کو لے کر پہنچا تھا۔
پہلے مرحلے میں پہنچنے والے افراد کو جہاز میں سیٹوں کے ساتھ باندھا گیا تھا اور انڈیا پہنچنے کے بعد ہی ان کو کھولا گیا۔ اس واقعے نے انڈیا میں سیاسی تلاطم کو جنم دیا اور اس وقت ایوان میں جاری بجٹ سیشن کے دوران شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔اسی طرح دوسرے جہاز کے ذریعے کے ذریعے پہنچے والوں نے بھی ناروا سلوک کے الزامات لگائے تھے۔
حکومت پر تنقید کے بعد وزارت خارجہ امور کے وزیر ایس جے شنکر نے کہا تھا کہ امریکاکے ساتھ بات چیت جاری ہے کہ ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد کے ساتھ برا سلوک نہ کیا جائے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا سے غیرقانونی تارکین کی واپسی کوئی نئی بات نہیں اور کئی برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔
اسی طرح وزیراعطم نریندر مودی جو اس وقت امریکا میں ہی تھے، کا کہنا تھا کہ انڈیا امریکا میں غیرقانونی طور پر رہنے والے انڈینز کو واپس لے گا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے انسانی اسمگلنگ کے خاتمے پر بھی زور دیا تھا۔
ان کے مطابق ’ہماری لڑائی اس پورے سسٹم کے خلاف ہے اور ہمیں یقین ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ انسانی سمگلنگ کے اس سسٹم کو ختم کرنے میں انڈیا کا ساتھ دیں گے۔‘
تنقید کے بعد انڈیا میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ’ہمارے ملک کے امیگریشن کا نفاذ ملکی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے بہت ضروری ہے۔‘