ویب ڈیسک: آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت ایک مشترکہ سوچ کے تحت قائم کی گئی ہے اور ان کا ارادہ شہباز شریف اور مریم نواز کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کا ہے۔
وہاڑی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ انہوں نے نہ صرف مخلوط حکومت کی حمایت کی بلکہ صدارتی انتخاب کے لیے بھی ووٹ مانگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام اتحادیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
’چار سال بانی نہیں، فیض حمید کی حکومت تھی‘
صدر زرداری نے سابق دورِ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار برس دراصل بانی کی نہیں بلکہ فیض حمید کی حکومت تھی۔ ان کے بقول حکمرانی اور عوام کو ریلیف دینے کا طریقہ کار تجربے اور سیاسی بصیرت کا متقاضی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پہلے سے اندازہ تھا کہ بلوچستان کے عوام کن مشکلات سے دوچار ہیں اور وہاں کے مسائل کے حل کے لیے مقامی لوگوں کو بااختیار بنانا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات پہلے کی نسبت بہتر ہو رہے ہیں اور حکومت بہتری کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ترقیاتی کام نظر نہیں آتے اور صوبہ محاذ آرائی کی سیاست کا شکار ہے۔
’سیاست میں مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں‘
صدر مملکت نے کہا کہ سیاست آسان میدان نہیں، اس میں مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود انہوں نے 14 سال قید کاٹی اور جب جیل سے باہر آئے تو بچے بڑے ہو چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جیل کی صعوبتیں برداشت نہیں کر سکتا تو اسے سیاست کے بجائے کوئی اور شعبہ اختیار کرنا چاہیے۔
زراعت اور پانی کے مسائل پر زور
آصف علی زرداری نے کہا کہ ملک کے معاشی مسائل کا حل زراعت میں مضمر ہے اور وہ خود کئی نسلوں سے زمیندار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے دور میں گندم کی قیمتوں میں توازن قائم کیا اور سندھ میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمین آباد کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ ہزاروں برس سے بہہ رہا ہے اور پنجاب کو گزشتہ 30 سال سے مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنا پانی راوی دریا سے نکالے۔ ان کے مطابق پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ سندھ میں دس لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبے پر مینگروز لگائے گئے ہیں۔
خواتین کو بااختیار بنانے کے اقدامات
صدر مملکت نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کیا گیا۔ سندھ میں خواتین میں زمین تقسیم کی گئی اور اب گھروں کے مالکانہ حقوق بھی خواتین کو دیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ کسانوں اور ہاریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کبھی غریب کسان سے قرض کی واپسی کا مطالبہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق سندھ میں جرائم کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور ڈاکو راج کا خاتمہ کیا گیا، جبکہ سندھ پولیس نے دیگر علاقوں تک کارروائیاں کیں۔
آخر میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد میں سندھ کا کردار نمایاں ہے اور سندھ اسمبلی نے قیامِ پاکستان کی قرارداد کی منظوری میں تاریخی کردار ادا کیا تھا۔