ویب ڈیسک : برطانیہ نے یوٹرن لیتے ہوئے ’’ گرومنگ گینگ’’ کی انکوائری دوبارہ شروع کرنیکا فیصلہ کرلیا۔ ایک وزیر نے اعتراف کیا ہے کہ ایلون مسک نے نئی انکوائری شروع کرنے پر مجبور کیا۔
رپورٹ کے مطابق یوویٹ کوپر، ہوم سکریٹری نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت گرومنگ گینگز کے بارے میں پانچ ابتدائی مقامی انکوائریوں کے لئے £5 ملین پاؤنڈ مختص کردئیے ہیں ۔

اس سے قبل حکومت برطانیہ کا موقف تھا کہ کہ اسے مزید انکوائری شروع کرنے کے بجائے پچھلی آزاد انکوائری برائےاطفال جنسی استحصال (IICSA) کی سفارشات کو لاگو کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
دوسری طرف جونیئر کلچر منسٹر کرس برائنٹ نے اعتراف کیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ X کے ارب پتی مالک ایلون مسک کی جانب سے سوشل میڈیا پر دباؤ نے حکومت کو اسکینڈل کی نئی تحقیقات کرنے پر مجبورکیا ہے۔
یادرہےکئی دہائیوں کے دوران برطانیہ کے کم از کم 50 قصبوں اور شہروں میں ہزاروں نابالغ یوریشئین لڑکیوں کو پاکستانی مردوں کے گروہوں نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
برطانوی وزیر داخلہ یوویٹ کوپر نے گرومنگ گینگز سے متعلق 5 انکوائریاں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیلفورڈ میں انکوائری کی قیادت کرنے والے قانون دان ٹام کروتھر، اولڈہم اور دیگر 4 مقامات کا جائزہ لیں گے، جائزہ تین ماہ کے اندر لیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ آڈٹ کی سربراہی بیرونس لوئیس کیسی کریں گی، وہ گینگز اور متاثرین کے نسلی و دیگر عوامل کا جائزہ بھی لیں گی۔
وزیر داخلہ یوویٹ کوپر نے مزید بتایا کہ بچوں کی گرومنگ میں ملوث افراد کیلئے سخت سزائیں متعارف کرائی جائیں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 1997 سے 2013 تک رادھرم، اولڈ ہم اور دیگر شہروں و ٹاؤنز میں 11 برس تک کے بچوں کا ریپ کیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق صرف رادھرم میں تقریباً 1400 لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، ان جرائم میں پاکستانی نژاد مرد بھی ملوث تھے۔
دوسری جانب شیڈو ہوم سیکرٹری کرس فلپ نے حکومتی منصوبے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مکمل نیشنل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
یادرہے ایلون مسک نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس کے پلیٹ فارم کو گرومنگ گینگ سکینڈل کی انکوائری شروع کرنے کے لئے استعمال کیا انہوں نے برطانیہ حکومت اور سیاست دانوں پر تند وتیز حملوں کا سلسلہ شروع کیا اوراسے مسلسل دباؤ بڑھانے کےلئے استعمال کیا۔
جس پر برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کو بیان دینا پڑا کہ متاثرین "اب کارروائی چاہتے ہیں، انکوائری میں مزید تاخیر اب نہیں"۔
کیا ’’ گرومنگ گینگ’’ میں واقعی پاکستانی مرد ملوث تھے ؟

برطانوی محکمہ وزارت داخلہ نے 2007 کم عمر بچیوں کا جنسی استحصال کرنے والے گرومنگ گینگز سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا:ان جرائم میں ملوث سب سے بڑا لسانی گروپ وائٹ یا سفید فام مجرموں کا تھا۔
کچھ علاقوں میں جہاں زیادہ سیاہ فام یا ایشیائی لوگ ملوث تھے وہاں باقی ملک کے برعکس انھیں لوگوں کی آبادی اکثریت میں تھی۔
اس سے پہلے حکومت کی جانب سے 2015 میں جاری محدود علاقوں کے ڈیٹا کے مطابق گرومنگ گینگز میں ملوث افراد میں 42 فیصد سفید فام تھے جبکہ ایشیائی 14 فیصد تھے اور 17 فیصد سیاہ فام تھے۔
اس کے علاوہ ایک آزادانہ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایسے کیسز جن میں مجرم سفید فام ہیں اُن کیسز کی کوریج اتنی زیادہ نہیں ہوتی ہے جتنی کہ ایشیائیمجرموں والے کیسز کی۔
ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے کہ وزیر داخلہ کے حالیہ بیانات سے برٹش پاکستانی کمیونٹی کے بارے میں تعصب میں مزید اضافہ ہو گا اور ان کے خلاف نسل پرستی پر مبنی حملے بڑھیں گے۔
یرو نامی شہر میں ایلینور ولیمز کا کیس ہے جس میں ایلینور ولیمز نے من گھڑت کہانیاں بنا کر پاکستانی نژاد مردوں پر ریپ اور ٹریفیکنگ کا الزام لگایا جو کہ عدالت میں جھوٹا ثابت ہوا۔
عدالت نے ایلینور ولیمز کو آٹھ سال کی سزا سنائی۔ ان الزامات کی وجہ سےعلاقے میں پاکستانی افراد ناصرف خوف و ہراس کا شکار ہوئے بلکہ ایک ملزم محمد رمضان نے تو خودکشی کرنے کا سوچا۔
رودرہم اسکینڈل (1997–2013) شامل ہے، جس کے دوران 16 سال کے دوران کم از کم 1,400 بچوں کا جنسی استحصال کیا گیا، جس میں پاکستانی نژاد مر د بھی ملوث تھے جبکہ Rochdale اسکینڈل (2012) اور Oxford اور Telford بھی اس سے ملتے جلتے کیس تھے۔