پاکستان کیساتھ گھناؤنا کام ہوا،اوپن اینڈ شٹ کیس ہے، وزیر قانون

azam nazir tarar and ata tarar press conf
کیپشن: azam nazir tarar and ata tarar press conf
سورس: google

ویب ڈیسک : وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑنے کہا ہے کہ ’غیرقانونی طوہر پر باہر بھیجا گیا پیسہ عوام کا ہوتا ہے۔ یہ ایک بنیادی کیس کا بنیادی فیصلہ ہے۔‘
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ ملک کے ساتھ ایک بہت گھناؤنا کام ہوا ہے۔ تعلیم و تدریس کے کام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ آج تک شوکت خانم ہسپتال کے خلاف ایکشن کیوں نہ ہوا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جو رقم این سی اے نے تصفیے کی صورت میں حاصل کی یہ واپس پاکستان کی وفاقی حکومت کو ملنی تھی جسے سٹیٹ بینک کا اکاؤنٹ نمبر ون کہتے ہیں۔ن کے مطابق عمران خان کی کابینہ کے ایک اجلاس میں بند لفافے کے ذریعے منظوری لی گئی کہ اسے سپریم کورٹ کی طرف سے سندھ کے عوام کے لیے طے کردہ اس معاوضے میں ایڈجسٹ کیا جائے جو بحریہ ٹاؤن نے ادا کرنے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاملے میں نیب کو تحقیقات کی ہدایت کی جبکہ اٹارنی جنرل کے دفتر کے ذریعے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ یہ پیسہ پاکستان کے عوام کا ہے لہذا اسے وفاقی حکومت کو واپس کیا جائے۔
وزیر قانون کے مطابق سپریم کورٹ نے کیس درج ہونے کے بعد یہ پیسہ وفاقی حکومت کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا تھا۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے نومبر 2024 کے دوران بحریہ ٹاؤن تصفیے میں عدالت عظمیٰ میں جمع کرائے گئے 35 ارب روپے وفاقی حکومت کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
وزیر قانون نے کہا کہ ’یہ ایک اوپن اینڈ شٹ کیس ہے اور اس معاملے میں مذہب کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔‘
اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ ’آج کے فیصلے سے قانون کا بول بالا ہوا ہے۔ یہ اوپن اینڈ شٹ کیس تھا جس کا فیصلہ میرٹ کے مطابق ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ کیس میں وکیلِ صفائی نہ تو بےگناہی کے ثبوت پیش کر سکے نہ پروسیکیوشن کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں کا جواب دے سکے۔‘
عطا تارڑ نے کہا کہ ’یہ کیس میڈیکا پر لڑا گیا اور اب مذہب کارڈ استعمال کیا جا رہا ہے۔ آج قانون کا بول بالا ہوا ہے۔‘

Watch Live Public News