ڈیلیوری ڈرائیورگرم مشروب گرنےسےمردانگی سےمحروم،اسٹاربکس پر 14ارب کا جرمانہ

ڈیلیوری ڈرائیورگرم مشروب گرنےسےمردانگی سےمحروم،اسٹاربکس پر 14ارب کا جرمانہ
کیپشن: ڈیلیوری ڈرائیورگرم مشروب گرنےسےمردانگی سےمحروم،اسٹاربکس پر 14ارب کا جرمانہ

ویب ڈیسک: امریکا میں ایک ڈیلیوری ڈرائیور پر گرم مشروب گرنے سے زخمی ہونے کے کیس میں کافی کمپنی 'اسٹار بکس' پر پانچ کروڑ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ریاست کیلی فورنیا کی ایک جیوری نے جمعے کو 2020 میں پیش آئے اس واقعے سے متعلق دائر کیس میں کمپنی پر جرمانہ عائد کیا۔ پانچ کروڑ ڈالر کا یہ جرمانہ پاکستانی روپے میں لگ بھگ 14 ارب بنتا ہے۔

ڈیلیوری ڈرائیور مائیکل گارسیا کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس میں اسٹار بکس کے آؤٹ لیٹ پر ہوتے ہیں کہ ایک گرم چائے ان پر گر جاتی ہے۔

مائیکل گارسیا کے دعوے کے مطابق وہ 2020 میں تین مشروبات لینے گئے تھے۔ لیکن ایک ڈرنک غیر محفوظ تھی اور "لاپروائی" کی وجہ سے ان پر گرگئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ مشروب گرنے سے ان کے جسم کا حصہ شدید جل گیا، نشان پڑھ گئے اور ان کے مخصوص اعضا کو بہت زیادہ اعصابی نقصان پہنچا جس کے بعد انہیں ایمرجنسی روم لے جایا گیا۔

مائیکل کے اٹارنی نک رولی کہتے ہیں کہ اس واقعے کے بعد مائیکل کی زندگی ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی رقم مائیکل کو پہنچنے والے مستقل نقصان کا ازالہ نہیں کرسکتی۔ لیکن جیوری کا فیصلہ اسٹاربکس کو صارف کی حفاظت کو نظرانداز کرنے اور ذمہ داری قبول کرنے سے انکار پر جواب دہ ٹھہرانے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

دوسری جانب اسٹار بکس کا کہنا ہے کہ وہ فیصلے کے خلاف اپیل کا ارادہ رکھتی ہے۔

کمپنی کی ترجمان جیسی اینڈرسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم مائیکل گارسیا سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ لیکن جیوری کے دیے گئے اس فیصلے سے متفق نہیں ہے کہ ہم اس کے ذمہ دار تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عائد کیا گیا جرمانہ بہت زیادہ ہے۔

ان کے بقول ہم اپنے اسٹورز پر ہمیشہ اعلیٰ حفاظتی معیارات کے لیے پرعزم رہے ہیں جس میں گرم مشروبات کی ہینڈلنگ بھی شامل ہے۔

Watch Live Public News