ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یوکرین میں تین برس سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے رواں ہفتے بات چیت متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق اتوار کی رات، ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ فلوریڈا سے واشنگٹن واپسی کے دوران ان کی روسی صدر سے بات چیت کا منصوبہ طے پایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 3 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے زمین، بجلی گھروں اور دیگر وسائل کی تقسیم پر مذاکرات جاری ہیں۔ جس کے جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
اس سے قبل مشرق وسطیٰ کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے سٹیو وِٹکوف نے جمعرات کو روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ماسکو میں ایک ’مثبت‘ ملاقات کے بعد واپس امریکا پہنچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’مجھے توقع ہے کہ اس ہفتے دونوں صدور ٹیلی فون پر آپس میں بات کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ ہم یوکرینی قیادت سے بھی رابطے میں ہیں۔‘
سٹیو وٹکوف نے کہا کہ ان کے خیال میں ٹرمپ اور پوتن کے درمیان بات چیت ’کافی اچھی اور مثبت‘ رہے گی۔
اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان 30 روزہ جنگ بندی کی اپنی تجویز پر روس کی تائید حاصل کریں۔
اس سے قبل جمعے کو ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’اس خوفناک اور خونی جنگ کے خاتمے کے لیے یہ ایک اچھا موقع ہے۔‘
انہوں نے یہ ’پرزور درخواست‘ کی تھی کہ پوتن ان ہزاروں یوکرینی فوجیوں کو ہلاک نہ کریں جنہیں گزشتہ ہفتے روسی افواج نے کرسک سے پیچھے دھکیلا ہے۔
اس کے جواب میں صدر پوتن نے کہا تھا کہ وہ اسی صورت میں ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست کو ’اعزاز‘ بخشیں گے اگر یوکرینی سپاہی ہتھیار ڈال دیں۔
کریملن نے جمعے کو اس تنازع کے خاتمے سے متعلق ’محتاط امید‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر پوتن نے امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف کے ذریعے جنگ بندی کے اپنے منصوبے سے متعلق پیغام صدر ٹرمپ کو بھیجا ہے۔
اس کے بعد امریکی نمائندوں نے مختلف ٹی وی چینلز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ روس کے جنگ بندی منصوبے سے اتفاق سے قبل کئی تبدیلیوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جو اس جنگ کے حتمی اور پرامن خاتمے کی ضمانت دے سکیں۔