ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مزید ٹیرف کے نفاذ کے فیصلے سے تنگ آئے فرانس نے تحفہ دئیے گئے مجسمہ آزادی جو امریکا کی علامت سمجھا جاتا ہے واپس مانگ لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فرانس میں سوشلسٹ اور ڈیموکریٹک گروپ کے رہنما رافیل گلائکس مَین نے ٹیرف لگانے کی دھمکی دینے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں ان امریکیوں سے کہنا چاہوں گا، جو سائنس دانوں کو بیروزگار کررہے ہیں، ظلم کرنے والوں کا ساتھ رہے ہیں، انہیں اب فرانس کی جانب سے 1886 میں تحفے میں دی گئی 'اسٹیچیو آف لبرٹی' کو واپس کر دینا چاہیے۔
فرانس نے اسے آپ کو ایک تحفہ کی شکل میں دیا تھا لیکن آپ اس کی قدر نہیں کرتے۔۔۔یقینی ہے کہ آپ اسے معمولی چیز سمجھتے ہیں۔ اس لیے آپ اسے واپس کر دیجیے، یہ اپنے گھر یعنی فرانس میں ٹھیک رہے گا۔ گلوکس مین نے ٹرمپ پر طنز کستے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ لگاتار اچھے لوگوں کو کام سے نکالتی جا رہی ہے۔ اگر امریکی ایسے ہی اپنی نوکری رکھنا جاری رکھتے ہیں تو یہ فرانس کے لیے فائدہ مند ہی ہوگا۔ یہ لوگ یہاں یورپ میں آئیں اور یورپی معیشت کو بڑھانے میں مدد کریں۔
گلوکس مین نے کہا کہ دوسری بات میں امریکیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ اپنے ان سبھی لوگوں کو نکالنا چاہتے ہیں جنہوں نے اپنی کھوج اور اپنی آزادی کے جذبہ کے ساتھ اور محنت کی دم پر امریکہ کو دنیا میں سب سے ٹاپ ملک بنایا تو بے شک نکال دیں۔ ہم یہاں پر یورپ میں ان کا استقبال کرتے ہیں۔
مجسمہ آزادی ہے کیا؟
سنہ 1885 میں فرانس کے عوام کی جانب سے انقلابِ امریکا کے 100 سال مکمل ہونے پر مجسمہ آزادی کا تحفہ پیش کیا گیا تھا۔
سنہ 1886 میں یہ مجسمہ نیو یارک میں نہایت نمایاں مقام پر نصب کر دیا گیا اور اس کے دروازے ملک بھر میں موجود ہر کسی شخص کے لیے کھول دیے گئے چاہے وہ شہری ہوں، سیاح ہوں، یا تارکینِ وطن۔
مجسمہ آزادی ایک ایسی خاتون کی نمائندگی کرتا ہے جو ظلم کی بیڑیوں سے آزادی حاصل کر چکی ہے۔ اس کے پیروں میں موجود ٹوٹی ہوئی زنجیر پڑی ہے۔ اس کے دائیں ہاتھ میں ایک مشعل ہے اور بائیں ہاتھ میں ایک کتاب ہے جس میں لاطینی زبان میں امریکا کے اعلانِ آزادی کی تاریخ چار جولائی 1776 لکھی ہے۔
تانبے کا بنا ہوا یہ مجسمہ فریڈریک آگستے بارتھولدی نے ڈیزائن کیا تھا جبکہ اس کے ڈھانچے کا ڈیزائن گستاو آئفل (آئفل ٹاور بنانے والے سول انجینیئر) نے تیار کیا تھا۔
مجسمہ آزادی کو سنہ 1924 میں ایک قومی یادگار قرار دے دیا گیا اور سنہ 2009 میں اس کے تاج کو 11 ستمبر کے حملوں کے بعد پہلی مرتبہ عوام کے لیے کھولا گیا۔
یہ مجسمہ اپنی بنیاد سے لے کر مشعل تک 46 میٹر اونچا ہے اور اسے 26 میٹر بلند پتھر پر نصب کیا گیا ہے جو ستارے کی شکل کی 20 میٹر بلند بنیاد پر نصب ہے۔