ویب ڈیسک: (دانش منیر)محکمہ داخلہ پنجاب نے عیدالفطر کے موقع پر امن و امان یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر میں سخت سکیورٹی انتظامات کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
حکام کے مطابق عیدالفطر یکم شوال 1447 ہجری چاند کی رویت کے مطابق 20 یا 21 مارچ کو متوقع ہے، جس کے پیش نظر پنجاب بھر میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ نمازِ عید کے اجتماعات کے دوران تین درجوں پر مشتمل فول پروف سکیورٹی پلان نافذ کیا جائے، تمام عبادت گاہوں کی کڑی نگرانی کی جائے اور اضافی نفری تعینات کی جائے۔ عبادت گاہوں میں داخلے کے لیے ایک مرکزی دروازہ مختص کیا جائے جبکہ واک تھرو گیٹس، سی سی ٹی وی کیمرے اور میٹل ڈیٹیکٹر کے ذریعے چیکنگ کو یقینی بنایا جائے۔
خواتین نمازیوں کے لیے لیڈی پولیس اہلکار تعینات کرنے، اہم مقامات پر خصوصی پکٹس قائم کرنے اور اسپیشل برانچ و بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ذریعے جامع سرچ آپریشنز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید برآں مساجد اور امام بارگاہوں کے اطراف کومبنگ آپریشنز، عید بازاروں، ہوٹلز اور عوامی مقامات کی سکیورٹی بڑھانے اور پارکنگ کو عبادت گاہوں سے محفوظ فاصلے پر رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
محکمہ داخلہ نے کالعدم تنظیموں اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی سخت نگرانی، لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال اور قابلِ اعتراض تقاریر کے خلاف فوری کارروائی کا بھی حکم دیا ہے، جبکہ آتشیں اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تمام شہروں اور بین الصوبائی داخلی و خارجی راستوں پر چیک پوسٹس قائم کرنے، ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے اور تفریحی مقامات کی سکیورٹی یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ اضلاع میں کنٹرول روم قائم کر کے انہیں مرکزی کنٹرول روم سے منسلک کرنے اور سکیورٹی پلان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔