ویب ڈیسک: بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے عدالت کی جانب سے انہیں انسانیت کا مجرم قرار دینے والے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہر چیز کا حساب لیا جائے گا۔
عدالتی فیصلے کے بعد شیخ حسینہ واجد نے عوامی لیگ اور اپنے حامیوں کے نام ایک پیغام جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ میرے خلاف لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں۔ حامیوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، فیصلہ آنے دیں، مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
شیخ حسینہ واجد نے مزید کہا کہ "اللہ نے مجھے زندگی دی ہے اور اللہ ہی میری جان لے گا، لیکن میں اپنے ملک کے عوام کے لیے کام کرتی رہوں گی۔" انہوں نے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "انہوں نے میرا گھر جلا دیا، لیکن ہم یہ سب نہیں بھولیں گے۔"
سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ " ہر چیز کا حساب لیا جائے گا، اور ہم انصاف کے لیے لڑتے رہیں گے۔"
واضح رہے کہ بنگلا دیش کے ٹربیونل نے سابق بنگلا دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کیخلاف انسانیت کیخلاف جرائم کے مقدمے میں فیصلہ سنادیا ہے۔جس میں شیخ حسینہ واجد کو مجرم قرار دیدیا گیا ہے۔عدالت نے سابق وزیراعظم کو سزائے موت سنادی ہے۔
بنگلا دیشی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شیخ حسینہ کیخلاف فیصلہ 450 صفحات پر مشتمل ہے۔فیصلہ تین رکنی انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سنایا۔حسینہ واجد پر5 الزامات کے تحت فردجرم عائد کی گئی تھی۔
عدالتی فیصلے کے مطابق بنگلا دیشن کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کوتین مقدمات میں عمرقیدکی سزا سنادی گئی جبکہ ایک مقدمے میں تاحیات قید اور ایک مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔