ویب ڈیسک: ملک بھر میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران گندم کی فی من قیمت 2400 روپے سے بڑھ کر 4200 روپے تک پہنچ چکی ہے، جب کہ آٹے کا 20 کلو کا تھیلا تقریباً 600 روپے تک مہنگا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے باعث نان اور روٹی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔
نان بائی ایسوسی ایشن کے صدر محمد عارف نے نجی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ گندم اور آٹے کی قیمت میں بڑا اضافہ ہو چکا ہے، جس کے بعد روٹی کی قیمت بڑھانا مجبوری بن گیا ہے۔ ان کے مطابق ایسوسی ایشن نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد سے ملاقاتیں کی ہیں اور درخواست کی ہے کہ نان اور روٹی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
محمد عارف کے مطابق اس وقت سرکاری نرخ کے مطابق روٹی 18 روپے اور نان 22 روپے مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں یہ بالترتیب 20 اور 25 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے نئی تجویز کے مطابق، روٹی کی قیمت 25 روپے اور نان کی قیمت 30 روپے مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ قیمتوں میں اضافے کی اجازت نہیں دیتی تو حکومت کو چاہیے کہ نان بائیوں کو پرانے نرخوں پر آٹا فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹا مہنگا خرید کر سستی روٹی بیچنا ممکن نہیں۔
مزید برآں، اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ اسلام آباد کے پوش سیکٹرز میں دکانوں کے کرائے تین لاکھ روپے سے زائد ہونے کے باعث روٹی اور نان کی قیمت دیگر علاقوں کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہوگی۔ اگر عام علاقوں میں نان 30 روپے کا ہوگا تو ایف سیکٹرز میں اس کی قیمت 39 روپے تک مقرر کی جائے گی۔
محمد عارف نے بتایا کہ ایک نان کے لیے اوسطاً 120 سے 150 گرام آٹا استعمال ہوتا ہے، جس کی لاگت میں 2.5 سے 3 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایک عام روٹی کے لیے درکار آٹے کی قیمت میں 1.5 سے 2 روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت اگر مداخلت نہ کرے تو آنے والے دنوں میں نان اور روٹی مزید مہنگی ہو سکتی ہے۔