(ویب ڈیسک ) چین نے نیکسٹ جنریشن کی کوانٹم ریڈار ٹیکنالوجی کی بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کر دی ہے جو نہایت کم توانائی والی "فوٹون" کو بھی پکڑ سکتی ہے، اور F-22 جیسے اسٹیلتھ طیاروں کو ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسے مستقبل کے بڑے منصوبوں جیسے کوانٹم کمیونیکیشن نیٹ ورکس کی راہ ہموار کرنے والا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
چین نے حال ہی میں ایک خاص قسم کا " فوٹون ڈیٹیکٹر" (Photon Detector) بڑے پیمانے پر تیار کرنا شروع کر دیا ہے، جو جدید خفیہ لڑاکا طیاروں جیسے کہ امریکاکے ایف-22 کو ٹریک کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
چینی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کا پہلا "انتہائی کم شور والا" اور چار چینل والا فوٹون ڈیٹیکٹر ہے، جو نہ صرف دفاعی میدان میں بلکہ کمیونیکیشن (رابطے) کے شعبے میں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
فوٹون ڈیٹیکٹر کیا ہے؟
یہ ایک بہت حساس آلہ ہے جو ایک ایک فوٹون (روشنی کے ذرے) کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو اناہوئی (Anhui) صوبے میں قائم "Quantum Information Engineering Technology Research Center" نے تیار کیا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ ایک فوٹون کو پکڑنا ایسے ہی ہے جیسے زور دار بارش اور گرج چمک کے دوران ریت کے ایک ذرے کے گرنے کی آواز سن لینا۔ اتنی حساسیت کی بدولت، یہ آلہ بہت معمولی سگنلز کو بھی پہچان سکتا ہے، جو کوانٹم ریڈار اور کمیونیکیشن کے لیے بہت ضروری ہے۔
کوانٹم ریڈار کیسے کام کرتا ہے؟
کوانٹم ریڈار عام ریڈار سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ مخصوص فوٹون خارج کرتا ہے، اور جب یہ فوٹون کسی چیز جیسے کہ ایک خفیہ طیارے سے ٹکراتے ہیں تو ان کی خصوصیات بدل جاتی ہیں۔
جب وہ واپس آتے ہیں تو ریڈار ان کی تبدیلیوں کو دیکھ کر یہ پتہ لگا سکتا ہے کہ کوئی چیز وہاں موجود ہے — چاہے وہ طیارہ خفیہ (stealth) ہی کیوں نہ ہو۔
جدید طیارے اور خفیہ ٹیکنالوجی
آج کے اسٹیلتھ (خفیہ) طیارے جیسے ایف-22 یا ایف-35 خاص ڈیزائن اور میٹیریلز کا استعمال کرتے ہیں تاکہ عام ریڈارز ان کو نہ پکڑ سکیں۔ لیکن کوانٹم ریڈار اس ٹیکنالوجی کو مات دے سکتا ہے، کیونکہ وہ صرف سگنل کی واپسی پر نہیں بلکہ فوٹون کی کوانٹم حالت پر کام کرتا ہے، جس کو جھوٹے سگنلز سے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔
نئے ڈیٹیکٹر میں خاص کیا؟
یہ چار چینلز پر ایک ساتھ کام کر سکتا ہے، یعنی بیک وقت مختلف سمتوں سے سگنلز پکڑ سکتا ہے۔
یہ پرانے سنگل چینل ڈیٹیکٹرز سے نو گنا چھوٹا ہے۔
اس کی مدد سے کوانٹم ریڈار مزید بہتر، کم توانائی خرچ کرنے والا اور کم نظر آنے والا ہو سکتا ہے۔
یہ کوانٹم کمیونیکیشن نیٹ ورکس کے لیے بھی فائدہ مند ہو گا۔