''ایران پر اسرائیلی حملے کی تجویز مسترد نہیں کی''،فوری اقدام کے حق میں نہیں،ٹرمپ

''ایران پر اسرائیلی حملے کی تجویز مسترد نہیں کی''،فوری اقدام کے حق میں نہیں،ٹرمپ
کیپشن: ''ایران پر اسرائیلی حملے کی تجویز مسترد نہیں کی''،فوری اقدام کے حق میں نہیں،ٹرمپ

ویب ڈیسک:  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے اگلے ماہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کی تجویز کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، لیکن ساتھ ہی اشارہ دیا کہ وہ فوری طور پر ایسا اقدام کرنے کے حق میں نہیں۔

ٹرمپ سے ایک نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر ایک مشترکہ حملہ کرنے کا منصوبہ تھا، لیکن صدر ٹرمپ نے سفارتی راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دی۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ"میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں نے (حملے کی تجویز) کو مسترد کر دیا، لیکن میں اس میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتا۔"

ٹرمپ اس وقت اطالوی وزیرِاعظم جیورجیا میلونی کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کر رہے تھے۔

 " ایران خوشحال ملک بن سکتا ہے"
صدر ٹرمپ نے کہا کہ" ایران کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ ایک عظیم ملک بنے اور خوشی کے ساتھ جیے — بغیر موت کے۔ میں یہی چاہتا ہوں، یہی میری پہلی ترجیح ہے۔"

لیکن ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیاکہ "اگر دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑا تو وہ ایران کے لیے بہت نقصان دہ ہوگا۔ مجھے لگتا ہے کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے — اور میں امید کرتا ہوں کہ ایسا ہی ہو۔ اگر وہ بات چیت پر آمادہ ہو جائیں تو یہ ان کے لیے بہت اچھا ہوگا۔"
ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ " ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں، یہ بہت سادہ سی بات ہے۔"

2015 کے جوہری معاہدے سے علیحدگی پر فخر

صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر 2015 کے ایران نیوکلئیر ڈیل سے امریکاکے انخلا کو اپنی بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا، جس سے اوباما انتظامیہ نے ایران کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔

Watch Live Public News