ویب ڈیسک: کینیڈا میں رواں ماہ ہونے والے عام انتخابات سے قبل چار بڑی وفاقی جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے دوسرے اور آخری مباحثے میں شرکت کی۔ تاہم مباحثہ صرف امریکی صدر اور اس کی پالیسیوں کے گرد گھومتا رہا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یہ مباحثہ 2 گھنٹے طویل تھا۔ جس میں لبرل رہنما مارک کارنی زیادہ نمایاں رہے جو کہ متوقع کینیڈین وزیراعظم بھی ہیں۔
جمعرات کو ان کے تینوں مخالفین — کنزرویٹو رہنما پیئر پوئیلیور، نیو ڈیموکریٹک پارٹی کے جگمیت سنگھ اور بلاک کیوبیکوا کے ایو-فرانسوا بلانشے — نے بارہا ان پر دباؤ ڈالا۔
مباحثے میں کینیڈا اور امریکا کے درمیان جاری تجارتی جنگ کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، لیکن مہنگائی، جرائم اور ماحولیات جیسے موضوعات پر بھی زوردار بحث ہوئی۔
مارک کارنی کے مخالفین تینوں رہنماؤں نے مباحثے میں سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی پالیسیوں پر تنقید کی۔
کنزرویٹو رہنما پیئر پوئیلیور نے کہا کہ گزشتہ 10 سال میں لبرل کہیں کھو گئے تھے اور یہ تب ہوا جب لبرل پارٹی ہی اقتدار میں تھی۔ انہوں نے ہاؤسنگ کی قیمتوں اور مہنگائی کی شرح میں اضافے پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے مارک کارنی سے سوال کیا کہ "ہم کیسے یقین کر لیں کہ آپ مختلف ہیں؟"
بلانشے نے بھی چیلنج کرتے ہوئے کہا: "آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ مختلف ہیں — آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ آپ بہتر ہیں۔"
کارنی کو کئی بار وضاحت کرنی پڑی، جنہوں نے کہا کہ وہ صرف ایک مہینے سے وزیر اعظم ہیں اور انہوں نے کہا: "میں جسٹن ٹروڈو سے بہت مختلف شخص ہوں۔"
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق رہنماؤں سے اس بارے میں بھی سوال کیا گیا کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ کس طرح مذاکرات کریں گے اور ان کے نافذ کردہ ٹیرف کا کس طرح جواب دیں گے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر نے کینیڈا سے آنے والی اشیاء پر مجموعی طور پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کیے ہیں، سوائے ان اشیاء کے جو شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) میں شامل ہیں۔ کینیڈا کو امریکی فولاد، ایلومینیم اور گاڑیوں پر بھی عالمی ٹیرف کا سامنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کی بات بھی کی ہے۔
کینیڈا کی حکومت نے پہلے "ڈالر کے بدلے ڈالر" کی پالیسی اپنائی تھی تاکہ امریکی معیشت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے۔
لیکن مباحثے کے دوران رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ یہ برابری کی لڑائی نہیں ہے۔
کارنی نے کہا: "ہم ڈالر کے بدلے ڈالر والے ٹیرف سے آگے نکل چکے ہیں،" اور تسلیم کیا کہ امریکی معیشت کینیڈا سے دس گنا بڑی ہے۔
لبرل رہنما نے کہا کہ اب حکمت عملی یہ ہے کہ مخصوص شعبوں کو نشانہ بنایا جائے تاکہ امریکا کو زیادہ نقصان ہو اور کینیڈا کو کم۔
ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں کینیڈا کے بارے میں اپنا لہجہ کچھ نرم کیا ہے۔ مارچ کے آخر میں امریکی صدر کے ساتھ فون کال کے بعد، کارنی نے کہا کہ ٹرمپ " کینیڈا کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں" اور ان کی بات چیت "مثبت" رہی۔
کینیڈا اور امریکا کے درمیان 28 اپریل کے انتخابات کے بعد تجارت اور سیکیورٹی پر بات چیت کا آغاز متوقع ہے۔
کینیڈین شہریوں کے لیے ٹرمپ اور ان کے ٹیرف سے ہٹ کر دیگر مسائل بھی اہم تھے، جیسے ہاؤسنگ، جرائم اور امیگریشن۔
پوئیلیور نے چھوٹی کابینہ کی حمایت کی جو ٹیکس کم رکھے اور معیشت کو فروغ دے، جبکہ وہ جرائم کے خلاف سخت اقدامات کے حامی بھی رہے۔
جگمیت سنگھ نے صحت کے نظام میں بہتری، دانتوں اور ادویات کے لیے قومی پروگرامز کے دائرہ کار میں توسیع کی بات کی۔
کارنی نے اعتدال پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت کا کردار اہم ہے، لیکن اس کا کردار متحرک ہونا چاہیے۔"
واضح رہے کہ کینیڈا کا سیاسی نظام برطانیہ کی طرز پر ہے، جہاں چند بڑی جماعتیں ہوتی ہیں: لبرلز، کنزرویٹوز، نیو ڈیموکریٹس، اور بلاک کیوبیکوا — جو صرف کیوبیک میں امیدوار کھڑی کرتی ہے۔ گرین پارٹی کو کافی امیدوار نہ ہونے کے باعث آخری لمحے میں مباحثے سے خارج کر دیا گیا۔
تاہم موجودہ رائے عامہ کے مطابق زیادہ تر ووٹرز لبرل یا کنزرویٹو پارٹی کو ترجیح دے رہے ہیں۔
تیسری بڑی جماعتیں اس وقت اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ قومی سروے کے مطابق این ڈی پی کو صرف 8.5 فیصد عوامی حمایت حاصل ہے، جو انہیں 343 نشستوں میں سے بمشکل پانچ نشستیں دلا سکتی ہے، جبکہ ان کے پاس اس وقت 24 نشستیں ہیں۔
جگمیت سنگھ نے بار بار کارنی اور پوئیلیور کی بات کاٹ کر خود کو بائیں بازو کے ووٹرز کے لیے متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا: "آپ تمام طاقت مسٹر کارنی کو نہیں دے سکتے۔"
دوسری جانب بلانشے نے کیوبیک کے مخصوص مسائل ہر موقع پر اٹھائے۔
ان کی جماعت کو بھی حالیہ سروے کے مطابق کیوبیک میں کم از کم ایک درجن نشستوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔
اگرچہ مباحثے میں بات چیت بعض اوقات تند و تیز رہی، مگر مجموعی ماحول شائستہ اور باوقار رہا۔
جب رہائش کے بحران پر گفتگو ہو رہی تھی تو کارنی نے پوئیلیور کی بات کا جواب دیتے ہوئے خود کو روک لیا اور کہا: "یہ ایک غلط فہمی ہے... لیکن میں خاموش رہوں گا۔"
کچھ گرما گرم جملوں کے تبادلے کے بعد کارنی اور پوئیلیور کو ہاتھ ملاتے اور ہنستے ہوئے بھی دیکھا گیا، جو امریکا کے حالیہ صدارتی مباحثوں سے بالکل مختلف منظر تھا — بلکہ ماضی کے کئی کینیڈین مباحثوں سے بھی زیادہ خوشگوار تھا۔