ویب ڈیسک: یوکرینی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ان کا امریکا کے ساتھ معدنیات کے ایک معاہدے کےابتدائی مسودے پراتفاق رائے ہوگیا ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق معاشی امور کی وزیر یولیا سویریڈینکو نے کہا کہ ابتدائی مسودے نے معاہدے کی راہ ہموار کردی ہے۔ انہوں نے اسے ایک "اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ" قرار دیا ہے۔تاہم حتمی معاہدے میں یوکرین کی تعمیر نو کیلئے ایک سرمایہ کاری فنڈ شامل کیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی حکام نے آئندہ ہفتے کے اختتام تک معاہدہ مکمل کیے جانے کی امید ظاہر کی ہے۔
یاد رہے کہ فروری میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی نے وقتی طور پر ان مذاکرات کو متاثر کر دیا تھا۔
سویریڈینکو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر یادداشت پر دستخط کا اعلان کیا، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ان کی پوسٹ میں ان کی اور امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی علیحدہ علیحدہ دستخط کرتے ہوئے تصاویر شامل تھیں۔
سویریڈینکو نے لکھاکہ "ہم اپنے امریکی شراکت داروں کے ساتھ نیت کے یادداشت نامے پر دستخط کے اعلان پر خوش ہیں، جو اقتصادی شراکت داری کے معاہدے اور یوکرین کی تعمیر نو کے لیے سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کی راہ ہموار کرتا ہے۔"
یہ دستخط ایک آن لائن کال کے ذریعے کیے گئے، جس میں بیسنٹ نے کہا کہ معاہدے کی تفصیلات پر کام جاری ہے۔
انہوں نے مسودے کے حوالے سے کہا کہ یہ جس خاکے پر اتفاق ہوا تھا یہ وہی ہے۔ زیلنسکی کی امریکا آمد پر ایک ایم او یو پر دستخط ہوئے تھے اور اب ہم اس کے بڑے معاہدے پر جارہے ہیں۔ یہ معاہدہ 80 صفحات پر مشتمل ہے اور اس پر جلد دستخط ہوجائیں گے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اٹلی کی رہنما جورجیا میلونی کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اس معاہدے کا اشارہ دیا تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ "ہمارے پاس ایک معدنیات کا معاہدہ ہے جس پر میرا خیال ہے کہ اگلے جمعرات کو دستخط ہوں گے۔ انہوں نے جلد ہی معاہدہ طے پاجانے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یوکرین اس معاہدے پر قائم رہے گا۔"
رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے معاہدے کے وقت اور مندرجات کے بارے میں تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
یاد رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے معاہدے کی طرف اشارہ ہے جس کے ذریعے امریکا کو یوکرین کی قیمتی معدنیات، تیل اور گیس تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔
اس سے قبل رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ ایک "سرمایہ کاری فنڈ" قائم کیا جائے گا جو یوکرین کی تعمیر نو کے لیے ہوگا اور اسے کیف اور واشنگٹن مساوی شرائط پر مشترکہ طور پر چلائیں گے۔
صدر زیلینسکی اس معاہدے کے ذریعے امریکا سے سیکیورٹی کی ضمانت حاصل کرنے کی امید رکھتے تھے، خاص طور پر روس کے ساتھ کسی ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی صورت میں۔
تاہم، فروری میں وائٹ ہاؤس میں زیلینسکی اور ٹرمپ کے درمیان شدید تلخ کلامی کی وجہ سے اس منصوبے کو وقتی طور پر نقصان پہنچا۔
امریکی سیکرٹری اسٹیٹ مارکو روبیو کا بیان:
جمعرات کو پیرس میں یورپی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد، امریکی ایلچی مارکو روبیو نے جمعے کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا"ہمیں بہت جلد – یعنی چند دنوں کے اندر – یہ طے کرنا ہوگا کہ آیا یہ (معاہدہ) قلیل مدت میں ممکن ہے یا نہیں۔"
انہوں نے مزید کہاکہ"اگر یہ ہونے والا نہیں، تو ہم آگے بڑھ جائیں گے۔"
روبیو کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہے کہ امن معاہدہ حاصل کرنا مشکل ہوگا، لیکن ایسے اشارے ہونے چاہئیں کہ یہ جلد ممکن ہو سکتا ہے۔
یہ تبصرے یوکرین اور امریکا کے درمیان جمعرات کو دستخط کیے گئے معاہدے کے ابتدائی مسودے پر دستخط کے بعدسامنے آئے، جسے یوکرینی حکومت نے شائع کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک یوکرین کی تعمیر نو کے لیے سرمایہ کاری فنڈ کے قیام اور ایک اقتصادی شراکت داری معاہدے کے لیے پرعزم ہیں۔
یادداشت کے مطابق اس معاہدے کو 26 اپریل تک حتمی شکل دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
دستاویز میں قدرتی وسائل سے متعلق کوئی تفصیل نہیں دی گئی، لیکن پچھلے لیکس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاہدہ صرف معدنیات تک محدود نہیں، بلکہ یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے، تیل اور گیس تک رسائی بھی اس میں شامل کی گئی ہے۔
تاہم امریکا نے تاحال یوکرین کے لیے کسی سیزفائر کی صورت میں سیکیورٹی کی ضمانت دینے سے گریز کیا ہے۔
یادداشت میں کہا گیا ہےکہ"امریکی عوام یوکرینی عوام کے ساتھ مل کر ایک آزاد، خودمختار اور محفوظ یوکرین میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔"دونوں حکومتیں " یوکرین میں ایک دیرپا امن اور اپنے عوام و حکومتوں کے درمیان مضبوط شراکت داری کی خواہاں ہیں۔"