فلسطینی قیدیوں کے بدلےتمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے پرتیارہیں،حماس

فلسطینی قیدیوں کے بدلےتمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے پرتیارہیں،حماس
کیپشن: فلسطینی قیدیوں کے بدلےتمام اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے پرتیارہیں،حماس

ویب ڈیسک:غزہ میں حماس کے چیف خلیل الحیا نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے تمام اسرائیلی یرغمالیوں کو چھوڑ سکتے ہیں۔ 

عرب نیوز کی خبر کے مطابق    اسرائیل کے ساتھ  حماس کی امن مذاکراتی ٹیم کے ممبر خلیل الحیا نے مصر میں ہونے والے حالیہ امن مذاکرات کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے۔ جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ انکا گروپ اسرائیل کی قید میں فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے میں تمام اسرائیلی قیدیوں کو چھوڑنے کیلیے تیار ہیں۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حماس نے اسرائیل کے کسی بھی عبوری جنگی معاہدے کو ماننے سے انکار کیا ہے۔  

انہوں نے مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ   نیتن یاہو اور انکی حکومت اپنے سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کیلیے  جزوی معاہدوں کو استعمال کرتی ہیں۔  جس سے تباہی اور بھوک کی جنگ بڑھتی ہے  اور اسرائیلی   قیدیوں کو اسکی سزا بھگتنی پڑتی ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ ہم  انکی ایسی کسی پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ جنوری میں ہوا تھا۔ جس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل نے مارچ میں دوبارہ غزہ میں جنگ کا آغاز کر دیا تھا۔ مصر کی جانب سے اسرائیل اور غزہ میں  اس امن معاہدے کو دوبارہ سے قائم کرنے کیلیے کوشش کی جارہی ہے۔ تاہم اس حوالے سے کچھ خاص پیش رفت نہیں ہو سکی کیونکہ دونوں جانب سے ابتک ایک دوسرے پر الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں حال ہی میں پیر کے روز مصر  کے شہر قائرہ میں ہونے والے مذاکرات بھی غیر نتیجہ رہے ۔

خلیل الحیا نے مزید  ان مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس نے مذاکرات میں ثالثی ممالک  قطر اور مصر کی جانب سے   حماس کے قبضے میں اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کے بدلے میں اسرائیل میں قید فلسطینیوں کو رہا کرنے کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے اور  اس تجویز میں اسرائیلی افواج کا غزہ سے انخلاء بھی شامل ہے۔   ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل  ہمارے لیے ناممکن شرائط کے ساتھ ایک نئے معاہدے کی تجویز پر غور کر رہا ہے۔

Watch Live Public News