ویب ڈیسک: سرکاری اخراجات میں کمی کیلیے آئی ایم ایف کا شدید دباؤ ہونے کاانکشاف ہوا ہے۔ جس سے ملک بھر میں ملک میں ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہونے لگی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جاری کردہ سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں 65فیصد کے برعکس 36فیصد ترقیاتی فنڈ خرچ ہوسکے۔ رواں مالی سال کے دوران نو ماہ میں محض 399ارب روپے ہی خرچ ہوسکے۔ شاہراہوں اور موٹرویز کی تعمیر کیلیے 162ارب ہدف کے برعکس 54ارب روپے خرچ ہوئے۔
دستاویزات میں لکھا ہے کہ بجلی کے منصوبوں پر 95ارب ہدف میں سے 51 ارب روپے ہی خرچ ہوئے۔ ڈیموں اور نہروں کی تعمیر پر 161ارب روپے ہدف میں سے 52ارب روپے ہی خرچ ہوسکے۔صوبوں، آزاد کشمیر اور جی بی کیلیے 276ارب روپے ہدف میں سے 96ارب روپے خرچ ہوئے۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن کیلیے 61ارب میں سے ابھی تک 22ارب روپے ہی خرچ ہوئے۔
کابینہ ڈویژن کیلیے 50ارب میں سے 35ارب روپے کا بجٹ استعمال ہوا ۔صحت کے منصوبوں پر 24.75ارب روپے ہدف میں سے 7.65ارب روپے ہی خرچ ہوئے۔ موسمیاتی تبدیلی کیلیے 5.2ارب روپے کی نسبت 1.51ارب روپے خرچ ہوئے۔