ویب ڈیسک: واشنگٹن ڈی سی میں خالصتان ریفرنڈم میں ہزاروں سکھوں نے ووٹ ڈالے اور بھارتی مودی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کی شدید مذمت کی۔
تفصیلات کے مطابق خالصتان ریفرنڈم کا اہتمام نیشنل پارک میں کیا گیا جس میں مختلف ریاستوں سے آئے سکھ خاندانوں نے شرکت کی۔ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے والے سکھوں کا کہنا تھا کہ وہ بھارتی تسلط سے آزادی چاہتے ہیں اور وہ خالصتان لے کر رہیں گے۔
خالصتان ووٹنگ کا جائزہ لینے والے عالمی مبصر اور پنجاب ریفرنڈم کمیشن کے سربراہ پال جیکب کہتے ہیں کہ دنیا کے ہر شخص کو اپنی رائے کا اظہار کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور سکھ برادری نے اسی حق کا استعمال امریکی دارالحکومت میں کیا۔
خیال رہے کہ خالصتان تحریک دنیا بھر میں بسنے والے 3 کروڑ سکھوں کی پرامن سیاسی جدوجہد ہے۔خالصتان ریفرنڈمز کو اب تک کسی بھی اقوام متحدہ رکن ملک نے غیر قانونی قرار نہیں دیا۔ سکھ برادری کا واضح پیغام ہے کہ ہم پرامن طریقے سے بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔بھارتی دباؤ اور پروپیگنڈے کے باوجود مغربی ممالک نے ریفرنڈم کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔