ویب ڈیسک: ملک بھر میں مون سون بارشوں کا ایک اور طاقتور اسپیل شروع ہوگیا ہے جس نے خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر، پنجاب اور دیگر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ شدید بارشوں اور بادل پھٹنے کے واقعات کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 15 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
صوابی سب سے زیادہ متاثر
صوابی کے علاقے داروڑی میں بادل پھٹنے سے درجنوں گھروں میں پانی داخل ہوگیا، شہری چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ پولیس اور ریسکیو حکام کے مطابق 70 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، تاہم کئی لوگ اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔ گدون امازئی کے پہاڑی علاقے سرکوئی پایاں میں مکان کی چھت گرنے سے 4 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔
ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ خان نے تصدیق کی کہ کلاؤڈ برسٹ کے باعث سیلابی ریلے کا بہاؤ انتہائی تیز ہے اور مختلف مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی ہے۔ امدادی ٹیموں کو ہری پور اور مردان سے بھی طلب کیا گیا ہے۔
دیگر اضلاع کی صورتحال
نوشہرہ میں مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہوگئے۔
پشاور میں موسلادھار بارش کے بعد یونیورسٹی روڈ، صدر بازار اور قصہ خوانی سمیت کئی علاقے پانی میں ڈوب گئے۔
سوات اور ہری پور میں ندی نالے بپھر گئے، شاہراہ قراقرم سمیت کئی اہم شاہراہیں بند ہوگئیں۔
راولا کوٹ میں لینڈ سلائیڈنگ اور طغیانی کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔
مری میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور شدید دھند نے وادی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی۔
دیگر صوبے اور ڈیم کی صورتحال
ہری پور میں خانپور ڈیم کی سطح مقررہ حد سے تجاوز کر گئی جس کے بعد سپل ویز کھول دیے گئے ہیں۔ پنجاب کے کئی اضلاع، خصوصاً ملتان، چکوال، وہاڑی اور ڈیرہ غازی خان میں نشیبی علاقے ڈوب گئے۔ کراچی میں بھی صبح سویرے بارش کے بعد موسم خوشگوار ہوگیا۔
این ڈی ایم اے اور محکمہ موسمیات کی وارننگ
این ڈی ایم اے نے پنجاب، خیبرپختونخوا کے ہزارہ ڈویژن، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بادل پھٹنے کے خدشات سے خبردار کیا ہے۔ شہریوں اور سیاحوں کو دریا کے کناروں اور نالوں سے دور رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا موجودہ سلسلہ 23 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ مزید دو سپیل بھی متوقع ہیں۔