ویب ڈیسک: بجلی صارفین کے لیے ایک اور تشویشناک خبر سامنے آئی ہے ۔جنوری کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں فی یونٹ ایک روپے 78 پیسے اضافے کا امکان ہے۔
اس سلسلے میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی ( سی پی پی اے) نے نیپرا کے سامنے درخواست دائر کر دی ہے، جس پر 26 فروری کو سماعت متوقع ہے۔
درخواست کے مطابق جنوری میں مجموعی طور پر 9 ارب 14 کروڑ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ تقسیم کار کمپنیوں کو 8 ارب 76 کروڑ 20 لاکھ یونٹس فراہم کیے گئے۔ حکام کے مطابق اس عرصے میں بجلی کی اوسط فی یونٹ لاگت 12 روپے 17 پیسے رہی، جبکہ ریفرنس لاگت 10 روپے 39 پیسے فی یونٹ مقرر تھی۔ اسی فرق کی بنیاد پر اضافی رقم صارفین سے وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سی پی پی اے کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں بجلی کی پیداوار مختلف ذرائع سے ہوئی۔ جس میں پانی سے 7.80 فیصد، مقامی کوئلے سے 15.36 فیصد،درآمدی کوئلے سے 17.28 فیصد، فرنس آئل سے 3 فیصد، مقامی گیس سے 12.23 فیصد،ایل این جی سے 21.90 فیصداورجوہری ایندھن سے 17.49 فیصد شامل ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نیپرا نے یہ درخواست منظور کر لی تو اس کا براہِ راست اثر گھریلو اور تجارتی صارفین کے ماہانہ بلوں پر پڑے گا، جس سے پہلے ہی مہنگائی کا سامنا کرنے والے عوام کے لیے بجلی مزید مہنگی ہو جائے گی۔ حتمی فیصلہ سماعت کے بعد سامنے آئے گا، جس کے بعد واضح ہو جائے گا کہ صارفین پر کتنا اضافی بوجھ ڈالنا ہوگا۔