ویب ڈیسک :( علی رضا ) کولکتہ کی سیالدہ سیشن کورٹ نے آر جی کار میڈیکل کالج میں 31 سالہ ٹرینی ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کیس میں مرکزی ملزم سنجے رائے کو مجرم قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انیربن داس نے سنجے رائے کو تعزیرات ہند (ترمیم شدہ ) کی دفعہ 64 ، دفعہ 66 اوردفعہ 103 کے تحت مجرم قرار دیا۔ عدالت نے مقدمے کی سماعت شروع ہونے کے 57 دن بعد فیصلہ سنایا۔
سنجے رائے کو مجرم قرار دیتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لینے ،دوران سماعت گواہوں کے بیانات کی روشنی اوروکلا کے دلائل کےبعد میں جج انیربن داس تمہیں مجرم قرار دیتا ہوں ۔ تمہیں سزا ملنی چاہیے۔
عدالت سنجے رائے کی سزا کا اعلان 20 جنوری کو کرے گی۔ اس وقت تک اسے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔
یادرہےاس کیس نے عالمگیر توجہ حاصل کی اور دنیا بھر کے شہریوں میں غم و غصے کو جنم دیا ۔ کولکتہ سمیت بھارت کے طول وعرض میں ڈاکٹرز، پیرامیڈکس اور عوام نے بارباراحتجاج کیا ۔
گزشتہ سال 9 اگست کو آر جی کار ہسپتال کے سیمینار ہال میں ایک خاتون ٹرینی ڈاکٹر کی لاش نیم برہنہ حالت میں ملی تھی۔ کولکتہ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی بنیاد پر شہری رضاکار سنجے رائے کو گرفتار کیا تھا۔ کولکتہ ہائی کورٹ کے حکم پر سی بی آئی نے کیس کو اپنے ہاتھ میں لے کر تحقیقات شروع کردی۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی نے بھی اپنی چارج شیٹ میں سنجے رائے کو اہم ملزم مانا ہے اور عدالت سے اس کے لیے موت کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔