ویب ڈیسک: 17 جولائی کو شمالی وزیرستان غلام خان کے قریب سیکیورٹی فورسز نے بڑی کامیابی سے5 افغان خوارج خودکش بمبار تار کاٹ کے پاکستان میں گھسنے کی کوشش کرتے ہوئے زندہ گرفتار کرلیے۔
تفصیلات کے مطابق گرفتار خوارجین سے خودکش جیکٹس، جدید اسلحہ، بارودی مواد اور افغانی شناختی کارڈ برآمد ہوئے۔افغان خوارج باڑ کاٹ کر پاکستان داخل ہو رہے تھے، بروقت کارروائی سے بڑا سانحہ ٹل گیا۔افغان سرزمین امن دشمنوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے، جس سے پاکستان کی خودمختاری کو مسلسل خطرہ لاحق ہے۔
بھارتی سپانسرڈ خوارج افغانستان سے منظم ہو کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور اکثر امن دشمن کاروائیاں کرتے ہیں۔
اس سے قبل، 4 جولائی 2025 کو بھی شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد پر خوارج کے اہم کمانڈر نجیب پڑاکے سمیت 30 خوارج مارے گئے تھے۔
23 مارچ 2025ء کو بھی افغان سرحد کے ذریعے دراندازی کی کوشش میں 16 خوارج جہنم واصل کئے گئے تھے۔
شب 27 اپریل 2025 کو شمالی وزیرستان حسن خیل میں پاک افغان سرحد پر آپریشن میں 71 خوارجی جہنم واصل کیے گئے۔
پاک افغان سرحد سے دراندازی سے لیکر پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے تک فتنتہ الخوراج کو بھارت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔
پاکستان افغان حکومت سے بارہا مطالبہ کر چکا ہے کہ افغانستان سے فتنہ الخوارج کے تربیتی مراکز اور پناہ گاہیں فوری ختم کی جائیں۔