ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق امریکی قومی سلامتی کی مشیر تلسی گبارڈ کی انٹیلی جنس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں اس رپورٹ پر کوئی اعتماد نہیں۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ تلسی گبارڈ نے کیا کہا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ اس سے ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کے اشارے مل رہے ہیں۔
یاد رہے کہ قومی سلامتی کی ڈائریکٹر تُلسی گبارڈ نے مارچ 2025 میں امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر بیان دیا تھا کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی اجازت ہی نہیں دی۔
تلسی گبارڈ کا مؤقف تھا کہ موجودہ انٹیلی جنس معلومات ایران پر براہ راست حملے یا جارحانہ اقدامات کا جواز نہیں بنتیں، تاہم ٹرمپ انتظامیہ اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے جارحانہ پالیسی پر قائم دکھائی دیتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے انٹیلی جنس اداروں کی رائے کو نظرانداز کرنا خطرناک رجحان ہے، جو نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے بلکہ امریکہ کی داخلی سلامتی پالیسی پر بھی سوالیہ نشان اٹھا سکتا ہے۔