(ویب ڈیسک ) تہران کی میزائلوں سے لرزتی فضاؤں میں بھارتی حکومت نے کشمیری طلبہ کو بے یارومددگار چھوڑ دیا۔
کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے مطابق تہران اور اہواز کے ہاسٹلز میں سائرنوں کی گونج میں کشمیری طلبہ اپنی قسمت کے منتظر ہیں،نئی دہلی کی سردمہری ایران میں موت کی دہلیز پر کھڑے کشمیری طلبہ کے لیے تکلیف دہ ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگی آگ میں جھلستے ایرانی شہروں میں کشمیری والدین کی دعائیں اور ٹیلی فون کالزبے اثر،پاکستان اور عرب ممالک اپنے طلبہ کو بچا کر اپنے وطن لے گئے، مگر بھارت نے کشمیریوں کو تنہا چھوڑ دیا،اگر یہ مظلوم طلبہ کشمیری مسلمانوں کے بجائے ہندو ہوتے تو حکومتی رویہ شاید مختلف ہوتا۔
کشمیر کی مجبور ماؤں کی چیخیں دہلی کے ایوانِ اقتدار کے در و دیوار سے ٹکرا کر لوٹ آئیں،جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے مودی سرکار کو خط لکھا، مگر اس خط کا کوئی جواب نہ آیا۔
کے ایم ایس رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ابھی 1500 طلبہ ایران میں ہیں، بھارتی سفارت خانہ خاموش تماشائی بن کر ایران میں کشمیری طلبہ کی بے بسی دیکھ رہاہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر کے میڈیا میں ایرانی جنگ کی خبریں گونج رہی ہیں، کشمیری طلبہ کا ذکر کہیں سنائی نہیں دے رہا۔
کشمیری طالبہ کا کہنا ہے کہ ہم ٹیلی فون کالز کر رہے ہیں مگر سفارتخانہ خاموش ہے۔