ویب ڈیسک: وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک بڑی سفارتی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی “ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو گئے ہیں، جس میں پاکستان نے بطور ثالث کردار ادا کیا ہے۔
وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والا یہ معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ واشنگٹن اور تہران تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے فوری طور پر کھولے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، شریک ثالث ریاست قطر کے تعاون سے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں ایک باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز بھی متوقع ہے۔
وزیر اعظم نے اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مذاکرات اور پرامن حل کی پالیسی نے اس بحران کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، جو اگر جاری رہتا تو خطے اور دنیا کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتا تھا۔