ویب ڈیسک: غزہ جنگ بندی ختم، اسرائیل کے فضائی حملے ، خواتین اور بچوں سمیت 331 فلسطینی شہید، ڈرون حملوں سے متعدد عمارتیں تباہ ہوگئیں۔
فلسطینی خبر رساں ایجنسی ڈبلیو ایف اے کے مطابق، 24 گھنٹوں کے دوران شمالی غزہ میں اسرائیلی ڈرون حملے میں200افراد جان بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری خواتین اور معصوم بچے بھی شامل تھے۔ بیت لاحیہ میں ایک گروپ پر حملہ کیا گیا، جبکہ ایک گاڑی کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔
شمالی غزہ، غزہ سٹی، اور وسطی اور جنوبی غزہ کی پٹی میں دیر البلاح، خان یونس اور رفح سمیت متعدد مقامات پر حملوں کی اطلاع ملی ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر بچے تھے۔
یرغمالیوں کی قسمت کو خطرے میں ڈال دیا گیا ، حماس
حماس نے ایک بیان میں حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’بلااشتعال کشیدگی بڑھانے‘ کا اقدام قرار دیا اور کہا اس نے یرغمالیوں کی قسمت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
یادرہےان حملوں کی وجہ سے حماس کی حراست میں موجود دو درجن یرغمالیوں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں، کی قسمت پر بھی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
غزہ میں جہنم کے دروازے کھول دینگے، اسرائیلی وزیر دفاع
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ اگر یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو ’ غزہ میں جہنم کے دروازے‘ کھولے جائیں گے۔
ان کے مطابق ’ہم تب تک لڑائی بند نہیں کریں گے جب تک تمام یرغمالی گھروں کو واپس نہ چلے جائیں اور ہم نے جنگ کے تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں۔‘
اسرائیلی دفاعی افواج نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا ہدف مبینہ طور پر دہشت گرد عناصر تھے۔ تاہم، فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں بڑی تعداد میں معصوم شہری مارے جا رہے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیل نے حملے سے قبل آگاہ کیا تھا، امریکا
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل نے حملے کرنے سے پہلے امریکی انتظامیہ سے مشورہ کیا تھا۔
ہفتے کے آخر میں امریکی نمائندے سٹیو وٹکوف جو مصر اور قطر کے ساتھ مل کر ثالثی کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں، نے حماس کو خبردار کیا تھا کہ وہ اسے یرغمالیوں کو فوری رہا کر دینا چاہیے یا پھر اس کی بھاری قیمت ادا کرنی چاہیے۔
غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال مزید گہری ہو گئی ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنوری میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کا پہلا چھ ہفتے کا مرحلہ یکم مارچ کو مکمل ہو گیا تھا، مگر دوسرے مرحلے کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ اسرائیل اور حماس کی مذاکراتی ٹیمیں دوحہ میں موجود ہیں ۔ اس دوران اسرائیلی فورسز نے غزہ پر بمباری میں شدت پیدا کر دی ہے، جس سے عام شہریوں کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
غزہ میں قائم وزارت صحت کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی اسرائیلی بمباری میں اب تک 48 ہزار سے زائد فلسطینی جان بحق ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔ اس کے علاوہ، لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جس سے خطے میں انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
غزہ میں عالمی فوج تعینات کی جاسکتی ہے ، مصر
مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے پیر کے روز کہا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے کی کامیابی کا انحصار عبوری دور کو سنبھالنے کے لیے ایک آزاد کمیٹی کے قیام پر ہے۔
سلامتی کونسل کی طرف سے غزہ اور مغربی کنارے میں بین الاقوامی موجودگی کے قیام کا مطالعہ کرنے کی تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے عبدالعطی نے مزید کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے پروگرام کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے میں بین الاقوامی افواج کو تعینات کیا جا سکتا ہے۔
یہ بات مصری وزیر خارجہ کی جانب سے غزہ کی پٹی میں صحت کے شعبے کی بحالی سے متعلق غیر ملکی سفیروں اور بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ مصری وزارت خارجہ کے دفتر میں اس ملاقات میں نائب وزیر اعظم اور وزیر صحت و آبادی ڈاکٹر خالد عبدالغفار بھی موجود تھے۔ اس میں غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کا منصوبہ بھی زیر غور آیا۔