ویب ڈیسک:دہشت گردی کے خلاف قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سمیت دیگر رہنما شریک ہوئے۔ عسکری قیادت کی جانب سے ملک کی سیکیورٹی کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم او، سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، وزیراعظم آزاد کشمیر، وزیر خزانہ، وزیراعلیٰ کے پی، گورنر پنجاب، وزیر دفاع اور دیگر شریک ہیں۔
قومی سلامتی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ملکی سلامتی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی نے دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں کی واضح الفاظ میں مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ گہری یکجہتی کا اظہار کیا۔
کمیٹی نے انسداد دہشت گردی آپریشنز کے انعقاد میں سیکیورٹی فورسز و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کو اس کی تمام شکلوں میں ختم کرنے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
کمیٹی نے ریاست کی پوری طاقت کے ساتھ اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے اسٹریٹجک اور ایک متفقہ سیاسی عزم پر زور دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کے لیے قومی اتفاق کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے ، لاجسٹک سپورٹ کے انسداد اور دہشت گردی و جرائم کے گٹھ جوڑ کوختم کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان اور عزم استحکام کی حکمت عملی پر فوری عمل درآمد پر زور دیا۔
کمیٹی نے پروپیگنڈا پھیلانے ، اپنے پیروکاروں کو بھرتی کرنے اور حملوں کو مربوط کرنے کے لیے دہشت گردگروپوں کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا اور اسکی روک تھام کیلئے اقدامات مرزور دیا ، کمیٹی نے دہشت گردوں کے ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے سدباب کے لیے طریقہ کار وضح کرنے پر بھی زور دیا .
افواج اج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کمیٹی نے ان کی قربانیوں اور ملکی دفاع کے عزم کا اعتراف کیا اور کہا قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلحافواج، پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دشمن قوتوں کے ساتھ ملی بھگت سے کام کرنے والے کسی بھی ادارے، فرد یا گروہ کو پاکستان کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کمیٹی نے حزب اختلاف کے بعض اراکین کی عدم شرکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اعادہ کیا کہ اس بارے میں مشاورت کا عمل جاری رہے گا .
قومی اسمبلی کے سپیکر کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، پارلیمانی کمیٹی کے ارکان، سیاسی قائدین، چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر، اہم وفاقی وزراء اور فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس اِن کیمرہ ہو رہا ہے جس میں سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں عسکری قیادت، پارلیمانی کمیٹی کو ملک کی موجوہ سکیورٹی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس میں پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران اور ان کے نامزد کردہ نمائندگان شرکت کر رہے ہیں، متعلقہ اراکین کابینہ بھی اس اجلاس میں شریک ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ابتدائی خیر مقدمی کلمات میں کہا کہ آج کے اجلاس میں تمام شرکا کو خوش آمدید کہتا ہوں، ملک کو درپیش حالات اتحاد اور ہم آہنگی کے متقاضی ہیں۔
ایاز صادق نے کہا کہ افسوس ہے کہ اپوزیشن نے آج کے اجلاس میں شرکت نہیں کی، ہم نے ان کو بھی دعوت دی تھی اور اچھا ہوتا وہ بھی شریک ہوتے، ہمیں مل کر ملک کو مسائل سے نکالنا ہے۔
وزیر اعظم شہبازشریف نے ابتدائی اظہار خیال کرتے ہوئے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال پر اظہار تشویش کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پوری قوم متحد ہے اور دہشت گردی کو ہر صورت شکست دیں گے، اچھا ہوتا اگر اپوزیشن کے دوست بھی اہم اجلاس میں شرکت کرتے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔
خواجہ آصف کی پی ٹی آئی پر کڑی تنقید:
قومی سلامتی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر خواجہ آصف نےپی ٹی آئی پر کڑی تنقید کی۔ذرائع کے مطابق خواجہ آصف نے کہا کہ آج کے دن بھی اپوزیشن نے ریاست کی بجائے ایک شخص کو ترجیح دی، عوام کو ان کا اصل چہرہ دیکھنا چاہیے، ہم نے سابق دور حکومت میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا، پی ٹی آئی کے دور میں پھر افغانستان سے دہشت گردوں کو لاکر یہاں بسایا گیا، ان دہشت گردوں کے سبب آج ایک بار پھر پورے ملک میں بے چینی کی کیفیت ہے۔
وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور :
وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے صوبے میں سیکیورٹی مسائل موجود ہیں، پولیس فورس اور دیگر سیکیورٹی فورسز کا مورال بڑھا رہے ہیں، پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کو مکمل وسائل فراہم نہیں کیے گئے، ہم بارہا وفاق سے یہ معاملہ اٹھا رہے ہیں،افواج پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، فوج نے خیبرپختونخوا میں امن کیلئے بہت کام کیا ہے، ہمیں آپس کی بد اعتمادی کو ختم کرنا ہوگا۔
علی امین گنڈا پور نے بانی چیئرمین کا نام لئے بغیر سیاسی جماعتوں کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیا۔
قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے دوران آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور ڈی جی ملٹری آپریشنز نے کمیٹی شرکاء کو بریفنگ دی۔
آرمی چیف نے 50منٹ اور ڈی جی ملٹری آپریشنز نے 30منٹ،بریفنگ دی، آرمی چیف کی شرکاء کو بریفنگ کے بعد 15منٹ کا وقفہ کردیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس آئی نے قومی سلامتی اجلاس میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر بریفنگ دی۔بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات میں فتنہ الخوارج ملوث ہیں۔فتنہ الخوارج کو بارڈر پار افغانستان سے مدد مل رہی ہے۔دہشتگردی میں غیر ملکی ساخت کا اسلحہ استعمال ہورہا ہے۔جعفر ایکسپریس واقعہ میں بھی افغانستان سے دہشتگردی کا واقعہ آپریٹ ہوا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک سے پہلے دہشتگردی کی لہر میں اضافہ ہوا،اجلاس میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات پرتفصیلی آگاہ کیا گیا۔
ذرائع کا کہناہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے بعدڈی ایم او۔ملڑی انٹیلی جینس۔ڈی جی آئی بی اور دیگر بریفنگ دینگے۔سابق وزیر اعظم نواز شریف اجلاس میں شریک نہیں۔
وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میں خطاب کرتے ہوئے صوبہ خیبرپختونخوا کی داخلی و خارجی صورتحال سے متعلق آگاہ کیا۔
سکیورٹی کے انتظامات سخت
دوسری جانب، قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے موقع پر غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے ارد گرد سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ، پارلیمنٹ ہاؤس کی چھت پر سنائپرز کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔ اجلاس کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام شرکاء کے لیے خصوصی سکیورٹی پروٹوکول ترتیب دیا گیا ہے، اور میڈیا کو رسائی نہیں دی گئی ہے تاکہ اجلاس کے دوران ہونے والی گفتگو کو خفیہ رکھا جا سکے۔
پی ٹی آئی کاقومی سلامتی اجلاس میں شرکت نہ کرنےکا فیصلہ،پیپلز پارٹی کا اظہار مایوسی
پی ٹی آئی کا پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ،سیکرٹری جنرل پاکستان پیپلز پارٹی نیئر حسین بخاری نے پی ٹی آئی فیصلے پر اظہار مایوسی کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے امور کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہئے،پی ٹی آئی نے پھر قومی سلامتی کے معاملے پر سیاست کو ترجیح دی ہے،قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی میں شرکت نہ کرنا طالبانائزیشن کی حمایت کے مترادف ہے۔
نیئر حسین بخاری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس موقع تھا وہ قومی اہمیت کے معاملے پر پارلیمنٹ میں یک زبان ہوتی،ہمیں اپنے ملک سے دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کے لئے مشترکہ قومی پالیسی اپنانا ہوگی،خیبرپختونخواہ میں سیکیورٹی کی صورتحال پہلے ہی توجہ طلب ہے،پی ٹی آئی کو پارلیمانی کمیٹی میں دہشتگردی کے خلاف پالیسی میں اپنی رائے دینی چاہئے تھی،قوم کو اس وقت تقسیم کی بجائے یک زبان ہونے کی ضرورت ہے۔