ویب ڈیسک: بیجنگ نے بھارتی وزیر اعظم کے ان بیانات کو 'مثبت' قرار دیا ہے جس میں نریندر مودی نے گزشتہ سال باہمی تعلقات میں قربت پیدا کرنے کے اقدامات کو مزید آگے بڑھانے کی توثیق کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے فری لانس امریکی پوڈ کاسٹر لیکس فریڈمین کے ساتھ گزشتہ دنوں ایک پوڈ کاسٹ میں متعدد سوالات کے جواب دیے، جن میں چین کے حوالے سے بھی سوالات کیے گئے تھے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ اکتوبر میں کازان میں صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی ملاقات کے بعد سے چین کے ساتھ سرحدی صورتحال معمول پر آ رہی ہے اور تعلقات میں اعتماد "آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر" لوٹ آئے گا۔
مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ تعاون پر مبنی تعلقات کی تلاش میں، بھارت اور چین کے درمیان اختلافات کا ہونا فطری ہے، لیکن توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر ہونی چاہیے کہ یہ تنازعات میں تبدیل نہ ہوں۔
چینی وزارت خارجہ نے وزیر اعظم مودی کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے، کہا کہ چین اور بھارت کے تعلقات 2000 سال سے زیادہ عرصے سے ایک دوسرے سے سیکھنے اور دوستانہ تبادلوں کی خصوصیات کے حامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چین نے وزیر اعظم مودی کے حالیہ مثبت بیانات کو سراہا ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں کازان میں "صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم مودی کے درمیان کامیاب ملاقات نے دونوں طرف کی بہتری اور ترقی کے لیے اہم ترین رہنمائی فراہم کی ہے۔ نیز ہمارے رہنماؤں کی مشترکہ تفہیم، تمام سطحوں پر تبادلے اور عملی تعاون کو مضبوط بنایا، اور مثبت نتائج کا ایک سلسلہ حاصل کیا۔"
چینی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے میڈیا کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ دونوں رہنماؤں کی میٹنگ میں طے پائے سمجھوتوں کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ "اس سے دونوں ملکوں کے دو اعشاریہ آٹھ بلین عوام کے مفادات پورے ہوں گے۔"
خیال رہے کہ بھارت اور چین نے مشرقی لداخ میں اپنی اپنی أفواج کی واپسی کے عمل کو مکمل کرنے اور تقریباً پانچ سال پرانے فوجی تعطل کو مؤثر طریقے سے ختم کرنے کے لیے گزشتہ سال اکتوبر میں ایک معاہدہ کیا تھا۔
مودی نے پوڈ کاسٹ میں کہا کہ 2020 سے پہلے کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔