ویب ڈیسک: بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا اسلام پر ایک بار پھرحملہ۔۔ بھارتی انتہا پسند ہندوؤں کے اقتدار پر قبضے نے نام نہاد سیکولر بھارت کا چہرہ مسخ کر دیا ہے۔ مودی کے دور اقتدار میں مسلمان اور اسلام دشمنی عروج پر۔۔
تفصیلات کے مطابق بھارت میں مساجد کو شہید کرنا، مسلمانوں کی املاک کو تباہ کرنا اور مسلمانوں کے بنیادی حقوق غصب کرنا نریندرمودی کا طرہ امتیاز ہے۔ انتہا پسند نریندرمودی کی قیادت میں بھارت میں اسلام مخالف ایجنڈا ایک بار پھر سرگرم ہے۔
بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر ناگپور میں انتہاپسند ہندوؤں کی جانب سے قرآن کی بے حرمتی۔۔ بجرنگ دل کے احتجاج کے دوران قرآن جلانے کی افواہوں کے بعد ناگپور میں ہندو مسلم کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اورنگ زیب کے مقبرے کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والے بجرنگ دل کے احتجاج کے دوران قرآن کو جلانے کی افواہ پھیلنےکےبعد پیر کووسطی ناگپور میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق اس دل سوز واقعے کے بعد شہر کے مختلف حصوں بشمول محل، کوتوالی، گنیش پیٹھ اور چٹانویس پارک میں بڑی تعداد میں مسلمان جمع ہوگئے۔
دی آبزرور پوسٹ نے لکھا کہ محل میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کے پاس بجرنگ دل کے ارکان کی جانب سے مظاہرہ کرنے کے بعد صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ احتجاج کی ویڈیوز وائرل ہوئیں اور قرآن جلانے کی افواہ پھیل گئی جس سے بھارتی مسلمانوں میں غم و غصہ پھیل گیا۔
دی آبزرور پوسٹ نے مزید لکھا کہ قرآن کی بے حرمتی کیخلاف گنیش پیٹھ پولیس سٹیشن میں مسلمانوں کی جانب سے باقاعدہ شکایت درج کرائی گئی۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بھی مغرب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ''اسلامو فوبیا‘‘ کے خطرناک رجحان کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ بھارت میں بڑھتی مسلم دشمنی نے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ کانگریس سمیت کسی بھی حکومت نے کبھی مسلمانوں کو بھارتی شہری تسلیم نہیں کیا۔
سماجی ماہرین کے مطابق مسلمانوں کا بھارت سے نام و نشان مٹانے اور انہیں سماجی‘ اقتصادی اور سیاسی طور پر پسماندہ رکھنے میں ہر کسی نے اپنی بساط سے بڑھ کر کردار ادا کیا ہے۔
مودی کی انتہا پسند حکومت کا یہ رویہ پہلے سے تقسیم بھارت کو تباہی کے دہانے پرلے آیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کا پرچار کرنے والی تنظیموں کو بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ان غیرانسانی اقدامات کیخلاف آواز اٹھانا ہوگی۔