ویب ڈیسک: ریاست منی پور میں مسلسل فسادات ، ہلاکتوں اور بدامنی کا راج برقرار ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بشنوپور میں راکٹ حملے سے معصوم شہریوں کی ہلاکت کے بعد عوام کا پر تشدد احتجاج جاری ہے۔ ریاست منی پور عملی طور پر مفلوج، کاروبار زندگی معطل ہوچکی ہے۔سینکڑوں مظاہرین نے گیلمول میں بھارتی فوجی کیمپ کو گھیرے میں لے لیا- سیکیورٹی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور تیس افراد زخمی ہوئے۔مظاہرین نے کیمپ کو تباہ اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا ۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ریاست منی پور سے تشدد امپھال ویسٹ تک پھیل گیا ہے اور صورتحال مزید بگڑ چکی ہے۔ امپھال ویسٹ، ایسٹ، تھوبل، کاکچنگ، بشنوپور میں پتھراؤ اور آتش زنی کے واقعات کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے ۔منی پور میں موبائل انٹرنیٹ اور ڈیٹا سروسز مکمل طور پر معطل کر دی گئی ۔علاقے میں اضافی فورسز اور بکتر بند گاڑیاں تعینات کی گئیں۔بھارتی فوج کے سرچ آپریشنز کے دوران عسکریت پسندوں کے جوابی حملوں کی اطلاعات ہیں۔
اُکھرول ضلع میں حکومتی حمایت یافتہ ریٹائرڈ فوجی ایس ڈبلیو چیناوشانگ اور اسکے معاون کو قتل کر دیا گیا۔ بھارتی سیکیورٹی فورسز کے سرچ آپریشن کے باوجود حالات کنٹرول سے باہرہیں۔عوامی حلقوں کی وزیر اعلیٰ یمنام کھیمچند سنگھ پر بدامنی کے باعث شدید تنقید جاری ہے۔