آسام میں بلڈوزر کارروائیاں ،ریاست مسلمانوں کی زندگیاں کچلنے کیلئے قانون کو ہتھیار بنا رہی ہے

آسام میں بلڈوزر کارروائیاں ،ریاست مسلمانوں کی زندگیاں کچلنے کیلئے قانون کو ہتھیار بنا رہی ہے

(ویب ڈیسک) بونگارا اسلام پور میں حالیہ بلڈوزر کارروائی ریاستی طاقت کا ایک پرتشدد مظاہرہ ہے جو سیاسی مفادات کے لیے دہائیوں سے قائم انسانی آبادی کو نظرانداز کر رہا ہے۔ اس جارحانہ مہم میں زمین کے ریکارڈ کو بہانہ بنا کر کمزور طبقات کو منظم انداز میں بے دخل کیا جا رہا ہے اور ان کا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے۔

بونگارا اسلام پور میں انہدامی کارروائی ان خاندانوں پر ایک وحشیانہ حملہ ہے جو 25 برس سے اس زمین کو اپنا گھر کہتے تھے۔500 گھروں کو بلڈوزر سے مسمار کرنا دراصل ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی ہے جسے انتظامی کارروائی کا نام دیا جا رہا ہے۔
حکومت قانون کی آڑ میں کھلے عام طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ایک پوری کمیونٹی کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔


اسلام پور میں ٹوٹنے والا ہر گھر جینے کے بنیادی انسانی حق کی مجرمانہ خلاف ورزی ہے۔یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ریاست ایک بے رحم مشین بن چکی ہے جو انسانی جانوں سے زیادہ زمین کے ریکارڈ کو اہمیت دیتی ہے۔
2021 سے اب تک 1.19 لاکھ بیگھا زمین خالی کرانا کمزور اور غریب طبقات کے خلاف ایک منظم جنگ ہے۔2021 سے اب تک 50 ہزار افراد کو بے گھر کرنا ریاست کی جانب سے منظم بے گھری کی مہم ہے۔
2025 کے صرف ایک ماہ میں 3,300 خاندانوں کو بے دخل کرنا ایک خطرناک اور مسلسل بے دخلی کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
3.62 لاکھ ہیکٹر متنازعہ زمین کو جواز بنا کر بڑے پیمانے پر انسانی تکلیف کو قانونی رنگ دیا جا رہا ہے۔
2021 کے گوروکھوتی آپریشن میں 2 افراد کی ہلاکت اور 7,000 کی بے دخلی اس پالیسی کو ایک مہلک ریاستی ہتھیار ثابت کرتی ہے۔

Watch Live Public News