ویب ڈیسک: آزاد جموں و کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا۔
حلف برداری کی تقریب صدر ہاؤس مظفرآباد میں منعقد ہوئی، جہاں اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے نومنتخب وزیراعظم سے حلف لیا۔
تقریب میں اہم سیاسی و عسکری شخصیات کی شرکت
تقریب حلف برداری میں گورنر گلگت بلتستان مہدی شاہ، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور، ارکان اسمبلی، اعلیٰ سول حکام اور عسکری نمائندوں نے شرکت کی۔
نومنتخب وزیراعظم کا اظہارِ تشکر اور عزم
تقریب سے خطاب میں راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ’’آصف علی زرداری، فریال تالپور اور بلاول بھٹو زرداری کے اعتماد پر شکر گزار ہوں کہ انہوں نے یہ اہم ذمہ داری میرے سپرد کی۔‘‘
انہوں نے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوج کے جوان اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر ریاست کا دفاع کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر عوام سے رشتہ بحال کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔
شہید ذولفقار علی بھٹو نے 1975 میں میرے والد ممتاز راٹھور کو وزارت دی، اس کے بعد شہید بینظیر بھٹو نے 1990 میں انہیں وزارت اعظمیٰ کا منصب دیا، اب بھی مجھ پر اعتماد کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری، فریال تالپور کی کوششوں سے نہ صرف دوبارہ ہماری حکومت بنی بلکہ پی پی پی ایک بار پھر ریاست کشمیر میں سب سے بڑی جماعت بن گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد 36 ووٹوں سے کامیاب قرار پائی تھی، جب کہ مخالفت میں صرف 2 ووٹ ڈالےگئے۔
تحریک عدم اعتماد کے بعد اسمبلی نے راجہ فیصل ممتاز راٹھور کو آزاد کشمیر کا 16 واں وزیراعظم منتخب کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے مبارکباد
اس سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف نے راجہ فیصل ممتاز راٹھور سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے انہیں وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر کو منتخب ہونے پردلی مبارکباد دی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے لوگوں کی ترقی و خوشحالی وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد جموں و کشمیر کی عوام کی فلاح و بہبود، معاشی ترقی و خوشحالی اور امن و سلامتی کے لیےآزاد جموں و کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور کون ہیں؟
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما فیصل ممتاز راٹھور کا تعلق آزاد کشمیر کے ایک بااثر اور تاریخی سیاسی خاندان سے ہے۔
فیصل ممتاز راٹھور آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم ممتاز حسین راٹھور کے فرزند ہیں، جبکہ ان کی والدہ بیگم فرحت راٹھور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی رکن اور پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر رہ چکی ہیں۔ راٹھور خاندان کو آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کے بانی خاندانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
فیصل راٹھور نے ابتدائی تعلیم راولپنڈی میں حاصل کی، جس کے بعد انہوں نے گریجویشن پنجاب یونیورسٹی سے مکمل کی۔ ان کے والد ممتاز حسین راٹھور نے 1975 کے انتخابات کے بعد سینیئر وزیر، 1990 میں وزیراعظم، 1991 میں قائدِ حزبِ اختلاف اور 1996 میں اسپیکر قانون ساز اسمبلی کے طور پر خدمات انجام دیں۔
ممتاز حسین راٹھور کی وفات کے بعد 1999 میں ان کے بڑے صاحبزادے مسعود ممتاز راٹھور بقیہ مدت کے لیے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ فیصل راٹھور نے 2006 میں پہلی مرتبہ قانون ساز اسمبلی کے حلقہ حویلی کہوٹہ سے الیکشن میں حصہ لیا۔
بعد ازاں 2011 کے انتخابات میں وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور چوہدری عبدالمجید کی کابینہ میں وزیر اکلاس اور وزیر برقیات کی ذمہ داریاں نبھائیں۔
فیصل راٹھور نے 2016 کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ اور ایک معاہدے کے تحت پارٹی رہنما خواجہ طارق سعید کو میدان میں اتارا تاہم انہیں شکست ہوگئی۔
اس وقت راجا فیصل ممتاز راٹھور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سیکریٹری جنرل ہیں۔ 2021 کے انتخابات میں وہ دوسری بار قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور ایوان میں موثر اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔
2023 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد انہوں نے چوہدری انوار الحق کی اتحادی حکومت میں وزیر لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ کے طور پر خدمات سرانجام دیں اور عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے لیے قائم کمیٹی کی سربراہی بھی کی۔
فیصل ممتاز راٹھور اپنی بردباری، نرم مزاجی اور بے داغ شہرت کے باعث سیاسی و عسکری حلقوں، عوامی ایکشن کمیٹی اور عوام میں یکساں مقبول ہیں۔ پارٹی قیادت انہیں بلاول بھٹو زرداری اور فریال تالپور کا نہایت قابلِ اعتماد ساتھی سمجھتی ہے، جبکہ وہ پارٹی کے نظریاتی اور متوسط طبقے کے نمائندہ رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔