ویب ڈیسک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جھڑپوں کو ختم کرانا پڑا تو وہ یہ کام بڑی آسانی سے کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ نوبل انعام کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کی جانیں بچانے کے لیے امن کی کوششیں کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ “ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی میرے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو میں دونوں ممالک کے درمیان فائر بندی کرا سکتا ہوں۔”
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپیں افسوسناک ہیں، اور اگر امریکہ کردار ادا کرے تو امن ممکن ہے۔
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں ایک بار پھر پاک بھارت کشیدگی کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ “میں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ رکوائی اور پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ میری مداخلت سے لاکھوں زندگیاں بچ گئیں۔”
امریکی صدر کے مطابق انہوں نے مجموعی طور پر آٹھ مختلف جنگیں رکوا چکے ہیں، جبکہ ان کے بقول “کوئی دوسرا امریکی صدر ایک بھی جنگ نہیں رکوا سکا۔”
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس بیان سے جنوبی ایشیا میں سفارتی سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ ان کے بیانات سیاسی مہم کا حصہ ہیں، تاہم اگر امریکہ واقعی ثالثی کی پیشکش کرے تو خطے میں کشیدگی میں کمی ممکن ہے۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں نے یاد دلایا ہے کہ ماضی میں بھی ٹرمپ متعدد بار ایسے دعوے کر چکے ہیں جنہیں بعد میں عملی شکل نہیں دی گئی۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن کے لیے باہمی اعتماد، علاقائی تعاون اور مذاکراتی تسلسل ناگزیر ہیں، اور اگر امریکہ ثالثی چاہتا ہے تو اسے دونوں ملکوں کے مفادات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ہوگا۔