ویب ڈیسک: وفاقی دارالحکومت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان کو نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق سائبر کرائم کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان کو زارا ہائٹس کی پارکنگ سے اغوا کیا گیا ہے، چار مسلح افراد نے گاڑی روکی اور محمد عثمان کو زبردستی لے گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ 14 اکتوبر کی شام 7 سے 8 بجے کے درمیان پیش آیا، جس کی فوٹیج بھی منظر عام پر آگئی ہے، محمد عثمان کی اہلیہ کی درخواست پر تھانہ شمس کالونی میں مقدمہ درج کیا گیا، تاہم ابھی تک کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل اور ان کے بیٹے مستنصر بلال کو 10 اگست کو زیزری کے علاقے سے دہشت گردوں نے اغوا کیا تھا تاہم اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل کے بیٹے کو گزشتہ روز ہرنائی کے پہاڑی علاقے سے بازیاب کرایا گیا تھا۔
بعد ازاں اغوا کاروں نے اسسٹنٹ کمشنر زیارت محمد افضل اور ان کے بیٹے کی ویڈیو بھی جاری کی، جس میں وہ اغوا کاروں کے مطالبات پورے کرنے کی اپیل کر رہے تھے۔
اس سے قبل بلوچستان حکومت نے اسسٹنٹ کمشنر اور ان کے بیٹے کے اغوا کاروں کا سراغ لگانے پر 5 کروڑ روپے کے نقد انعام کا اعلان کیا تھا۔
مغوی اسسٹنٹ کمشنر محمد افضل تاحال بازیاب نہ ہوسکے، اسسٹنٹ کمشنر کی بازیابی کے لیے ضلعی انتظامیہ کے اقدامات جاری ہیں۔