ویب ڈیسک: بھارت نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کا مکمل جائزہ لے گا۔ نئی دہلی نے واضح کیا ہے کہ حکومت اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ بھارت کو اس معاہدے کی پیشگی اطلاع تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور سعودی عرب کے طویل عرصے سے جاری تعلقات کو باضابطہ بنانے کے لیے زیر غور تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت معاہدے کے قومی سلامتی اور علاقائی استحکام پر اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کے روز سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ریاض میں ملاقات کی تھی، جس کے دوران دونوں ممالک نے ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر جارحیت سمجھا جائے گا، جبکہ اس کا مقصد دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور مشترکہ حکمت عملی کو مستحکم بنانا ہے۔
ادھر بھارتی ماہرین نے وضاحت کی ہے کہ اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ سعودی عرب پاکستان کے لیے بھارت کے خلاف جنگ کرے گا۔ ان کے مطابق سعودی عرب کی ترجیحات زمینی حقائق پر مبنی ہیں اور مملکت بھارت کے ساتھ بھی گہرے تجارتی تعلقات رکھتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تجارت مالی سال 2024-25 میں 41.88 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ سعودی عرب کے لیے نئی دہلی دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ دوسری طرف پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی حجم محض 4.3 ارب ڈالر کے قریب ہے۔
مبصرین کے مطابق سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات سیاسی، عسکری اور سماجی سطح پر مضبوط ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ مملکت میں تقریباً 25 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جو زرمبادلہ بھیجنے میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم معاشی مفادات کے تناظر میں سعودی عرب بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھی برقرار رکھے گا۔