ویب ڈیسک: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف 10 ارب ہرجانہ کیس میں وزیر اعظم ویڈیو لنک پر جرح کے لیے عدالت میں پیش ہو گئے، عدالت نے شہباز شریف پر ابتدائی جرح مکمل ہونے کے بعد کیس کی سماعت 25 اپریل تک ملتوی کر دی۔
تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج شہباز شریف کے ہتک عزت دعوے پر سماعت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش ہوئے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل محمد حسین وزیراعظم شہباز شریف پر جرح کر رہے ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف نے جرح سے قبل عدالت میں حلف لیا اور بیان دیا "جو کہوں گا، سچ کہوں گا، غلط بیانی نہیں کروں گا۔"
بانی پی ٹی آئی عمرا ن خان کے وکیل نے وزیراعظم شہباز شریف سے سوال کیا کہ کیا آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ نے دعویٰ ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر نہیں کیا؟
شہباز شریف نے کہا یہ میرے پاس لکھا ہے کہ دعویٰ ڈسٹرکٹ جج کے پاس دائر ہوا۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل نے سوال کیا کہ آپ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ نے دعوے میں کسی میڈیا ہاؤس کو فریق نہیں بنایا؟۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جی یہ بات درست ہے۔
وکیل نے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے آپ پر 10 ملین کا الزام آمنے سامنے نہیں لگایا۔
شہباز شریف نے کہا کہ ٹی وی پر سب کے سامنے بار بار یہ الزام لگایا گیا، یہ بےہودہ الزام بار بار دہرایا گیا۔
وکیل بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ کیا میں پنجابی میں سوال کرسکتا ہوں؟۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آپ بڑے شوق سے کریں۔
وکیل بانی پی ٹی آئی نے سوال کیا کہ جن ٹی وی پروگرامز میں آپ پر الزام عائد کیے گئے وہ اسلام آباد سے آن ائیر ہوئے تھے؟۔
شہباز شریف نے کہا کہ مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے کہ پروگرام کہاں سے آن ائیر ہوئے۔
شہباز شریف پر جرح کے دوران بجلی بند ہو گئی، بجلی بند ہونے سے دعوے پر سماعت کچھ دیر کے لیے روک دی گئی۔
وزیر اعظم شہباز شریف پر دوبارہ جرح 11 بج پر 50 منٹ پر شروع ہوئی۔
سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ درست ہے کہ دوران جرح اس وقت میرا وکیل میرے ساتھ بیٹھا ہوا ہے،یہ درست ہے کہ جہاں میں بیٹھا ہوا ہوں، وہاں مدعا علیہ بانی pti کا وکیل نہیں ہے، یہ درست ہے کہ صدر مملکت کو منظوری کیلئے بھجوانے سے پہلے تمام قوانین، رولز کا کابینہ جائزہ لیتی ہے،میں نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہرجانہ دعوی پر خود دستخط کئے تھے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ دعوی دائر کرنے سے پہلے میں نے ہتک عزت کا قانون 2002 پڑھا تھا کہ نہیں،دعوی کی تصدیق کیلئے اشٹام پیپر میرے وکیل کے ایجنٹ کے ذریعے خریدا گیا،مجھے دعوی کی تصدیق کرنے والے اوتھ کمشنر کا نام یاد نہیں ہے،دعوی کی تصدیق کیلئے اوتھ کمشنر خود میرے پاس آیا تھا،اوتھ کمشنر کی تصدیق کا دن اور وقت یاد نہیں لیکن وہ خود ماڈل ٹاؤن لاہور آیا تھا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ درست ہے کہ میں نے دعوی ڈسٹرکٹ جج کے روبرو دائر کیا ہے، ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر نہیں کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے وکیل نے اعتراض اُٹھادیا اور کہا کہ ڈسٹرکٹ جج یا ڈسٹرکٹ کورٹ کے قانونی نقطہ کا فیصلہ متعلقہ جج کر چکی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ میں نے دعوی میں کسی میڈیا ادارے، ملازم، آفیسر کو فریق نہیں بنایا،یہ درست ہے کہ بانی pti نے آج تک میرے آمنے سامنے یہ الزام نہیں لگایا،عمران خان نے یہ تمام الزام دو ٹی وی چینلز کے پروگرام پر لگائے،مجھے علم نہیں ہے کہ دونوں نیوز چینلز نے یہ ٹی وی پروگرام کس شہر سے نشر ہوئے،دعوی دائر کرنے سے پہلے میں دونوں چینلز کے پروگرام کے نشر کرنے کے شہروں کی تصدیق نہیں کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ مجھے علم نہیں کہ دونوں چینلز کا مالک یا ملازم بانی پی ٹی آئی نہیں ہے،مجھے علم نہیں ہے کہ ہتک عزت قانون سے مواد شروع یعنی Originator کا لفظ حذف کر دیا گیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمرا ن خان کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے آج تک آپکے خلاف ازخود بیان نشر یا شائع نہیں کیا؟۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاکہ عمران خان نے ٹی وی چینلز پر تمام الزامات خود ہی لگائے ہیں،مجھے علم نہیں ہے کہ بانی پی ٹی آئی روزنامہ جنگ، پاکستان جیسے اخبارات کا مالک ہے یا نہیں؟۔
عمران خان کے وکیل نے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ بطور ایڈیشنل سیشن جج آج کی عدالت کو سماعت کا شہادت ریکارڈ کرنے کا اختیار نہیں؟۔
وزیر اعظم شہباز شریف کے وکیل مصطفی رمدے نے عمران خان کے وکیل کے سوال پر اعتراض اُٹھاتے ہوئے کہاکہ یہ قانونی نقطہ طے ہو چکا ہے۔
عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف سے سوال کیاکہ آپ اس نقطے کا جواب دینا چاہتے ہیں؟۔
شہباز شریف نے کہاکہ یہ غلط ہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو بطور ڈسٹرکٹ جج دعوی سماعت کرنے، شہادت ریکارڈ کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ میں 2017 میں جب الزام لگا تو مسلم لیگ نواز کا صدر تھا یا نہیں،یہ درست ہے کہ 2017 میں میرا مسلم لیگ نواز سے تعلق تھا، آج بھی ہے،یہ درست ہے کہ جب 2017 میں الزام لگا تو بانی پی ٹی آئی تحریک انصاف کے چیئرمین تھے۔یہ درست ہے کہ جب سے بانی پی ٹی آئی نے سیاست شروع کی، جماعت بنائی، تب سے ہی مسلم لیگ نواز کے حریف رہے ہیں،یہ درست ہے کہ بانی پی ٹی آیہ تحریک انصاف بننے سے لیکر آج تک کبھی مسلم لیگ نواز کے اتحادی نہیں رہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ درست ہے کہ میں نے اسی لئے دعوی کے پیراگراف 3 میں مسلم لیگ نواز کے سیاسی حریف کے الفاظ لکھوائے تھے۔
عمران خان کے وکیل نے سوال کیا کہ یہ درست ہے کہ سیاسی حریف ہونے کی بناء پر آپ ایک دوسرے کےخلاف بیان بازی کرتے رہتے ہیں؟۔
شہبازشریف نے کہا کہ یہ بات قطعاً درست نہیں ہے۔اُس وقت بانی پی ٹی آئی عمران خان کا واضح اشارہ میری طرف تھا۔
عدالت نے شہباز شریف پر ابتدائی جرح مکمل ہونے کے بعد کیس کی سماعت 25 اپریل تک ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ یہ ہرجانہ دعویٰ اس بیان کے خلاف دائر کیا گیا تھا جس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے مبینہ طور پر شہباز شریف پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔