ویب ڈیسک: سپریم کورٹ نے ہفتے کی صبح ایک ہنگامی فیصلے میں ممکنہ طور پر Alien Enemies Act کے تحت ملک بدری کے خطرے سے دوچار تارکین وطن کی ملک بدری روک دی۔یہ کیس ٹیکساس میں موجود ان تارکین وطن سے متعلق ہے جن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ انہیں ملک سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے سے قدامت پسند ججز سیموئل ایلیٹو اور کلیرنس تھامس نے اختلاف کیا۔
وینزویلا سے تعلق رکھنے والے ان تارکین وطن کے وکلا نے جمعہ کو عدالتِ عظمیٰ میں ہنگامی اپیل دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انہیں فوراً ملک بدر کیے جانے کا خطرہ ہے اور انہیں مناسب نوٹس نہیں دیا گیا تاکہ وہ اپنی ملک بدری کو چیلنج کر سکیں۔
بی بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عدالت کے مختصر حکم میں کوئی تفصیلی وجوہات بیان نہیں کی گئیں۔ تاہم، عدالت نے حکم دیا کہ جب تک لوزیانا کی ایک وفاقی اپیل عدالت اس کیس میں کارروائی نہ کرے، ٹرمپ انتظامیہ اس ہنگامی اپیل پر جواب نہ دے۔
اس دوران عدالت نے حکم دیا کہ"حکومت کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اس گروپ کے کسی بھی رکن کو، جسے حراست میں لیا گیا ہے، عدالت کے آئندہ حکم تک امریکا سے بے دخل نہ کرے۔"
یاد رہے کہ اس سے قبل واشنگٹن ڈی سی میں ایک وفاقی جج جیمز بوسبرگ نے تارکین وطن کے وکلا کو بتایا تھا کہ وہ ملک بدریوں کو روکنے کا اختیار نہیں رکھتے، حالانکہ وہ انتظامیہ کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کر چکے تھے۔
جمعہ کی رات ایک ہنگامی سماعت میں بوسبرگ نے تارکین وطن کے وکیل سے کہا کہ "مجھے آپ کی باتوں سے مکمل ہمدردی ہے، لیکن میرے خیال میں میرے پاس کچھ کرنے کا اختیار نہیں۔"
فیصلہ سنانے سے قبل جج بوسبرگ نے حکومت کے وکیل ڈیو اینسائن سے پوچھا کہ کیا ملک بدریوں کا عمل جمعہ کی رات یا ہفتہ کو شروع ہو گا۔اینڈسائن نے جواب دیا کہ اگرچہ کوئی پروازیں شیڈول نہیں، لیکن محکمہ داخلہ (DHS) نے کہا ہے کہ وہ ہفتے کو ان تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ACLU اور Democracy Forward کے وکلا نے 18ویں صدی کے ایک متنازع جنگی قانون Alien Enemies Act کے تحت صدر ٹرمپ کے اقدامات کو عدالت میں چیلنج کیا تھا اور بوسبرگ سے ہنگامی ریلیف مانگا تھا۔
واضح رہے کہ یہ کیس پہلے بھی سپریم کورٹ جا چکا ہے، جہاں ججوں نے کہا تھا کہ تارکین وطن صرف اسی ضلع کی عدالت میں اپنی ملک بدری کو چیلنج کر سکتے ہیں جہاں انہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔
جج بوسبرگ نے جمعہ کو کہا کہ"میرے لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ میں اس تنازع میں مداخلت کروں، خاص طور پر جب یہ معاملہ پانچویں سرکٹ اور سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے۔"
یہ تنازع ظاہر کرتا ہے کہ حکومت Alien Enemies Act کے تحت ملک بدری کے لیے کتنی جارحانہ حکمت عملی اپنا رہی ہے، کیونکہ یہ قانون امیگریشن کے عام ضوابط کو بعض صورتوں میں نظر انداز کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
تارکین وطن کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ"ہمیں سننے میں آ رہا ہے کہ مرد قیدیوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے کپڑے بدلیں۔"
توہینِ عدالت کی کارروائی:
جج بوسبرگ نے انتظامیہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا تھا کیونکہ اس نے مبینہ طور پر ان کا ایک سابقہ حکم نظرانداز کیا، جس میں ابتدائی پروازوں کے ذریعے ملک بدری روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ بعد میں یہ حکم سپریم کورٹ نے معطل کر دیا۔
جمعہ کی رات ایک اپیل کورٹ نے بوسبرگ کے فیصلے پر انتظامی توقف جاری کیا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ توہینِ عدالت کی کارروائی آگے بڑھائی جا سکتی ہے یا نہیں۔
سپریم کورٹ کے پچھلے حکم میں کہا گیا تھا کہ حکومت کو ملک بدری سے قبل تارکین وطن کو مناسب نوٹس دینا ہوگا تاکہ وہ اس فیصلے کو چیلنج کر سکیں۔
ACLU کے وکیل لی گلرنٹ نے عدالت میں کہا کہ تارکین وطن کو ملک بدری کا نوٹس صرف 24 گھنٹے پہلے دیا گیا اور اس میں چیلنج کرنے کا کوئی واضح طریقہ درج نہیں تھا۔ انہوں نے ایک نوٹس کی تصویر بھی عدالت کو پیش کی۔
جبکہ DOJ کے وکیل اینڈسائن کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے صرف نوٹس دینے کا کہا تھا، نہ کہ چیلنج کرنے کا کوئی فورم فراہم کرنے کا۔
جج بوسبرگ نے ریمارکس دیے کہ"مجھے یقین ہے کہ یہ نوٹس بہت پریشان کن ہے اور شاید سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔"
تاہم انہوں نے مزید کہا کہ "لیکن میرے خیال میں میرے پاس اس وقت کوئی ریلیف دینے کا اختیار نہیں۔"