ویب ڈیسک: غزہ میں جاری جنگ کے دوران اپنے دونوں بازو کھو دینے والے بچے کی تصویر کو "ورلڈ پریس فوٹو آف دی ایئر" کا اعلیٰ اعزاز دیا گیا ہے۔ یہ دل دہلا دینے والی تصویر نیویارک ٹائمز کے فوٹو جرنلسٹ سمر ابو الؤف نے کھینچی تھی۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ورلڈ پریس فوٹو ایوارڈز نے غزہ میں 2023 سے جاری جنگ کے دوران زخمی ہونے والے نو سالہ محمود اجور کی تصویر کو "ورلڈپریس فوٹو آف دی ایئر" قرار دیا ہے۔ یہ تصویر نیویارک ٹائمز میں شائع ہوئی تھی اور عالمی سطح پر انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والی ایک اہم دستاویز بن گئی۔
محمود اجور مارچ 2024 میں غزہ میں ایک اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہوا تھا، جس کے نتیجے میں اس کے دونوں بازو کٹ گئے۔ بعد ازاں، محمود کو علاج کے لیے قطر منتقل کیا گیا، جہاں وہ اس صدمے سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، اور اب اپنے پیروں سے لکھنا اور کھیلنا سیکھ رہا ہے۔
تصویر کے ساتھ سمر ابو الؤف نے ایک جذباتی پیغام بھی شیئر کیا، جس میں انہوں نے کہاکہ "محمود کی والدہ نے مجھے جو سب سے دلخراش بات بتائی، وہ یہ تھی کہ جب محمود کو پہلی بار یہ احساس ہوا کہ اس کے بازو نہیں رہے، تو اس نے اپنی ماں سے پہلا سوال یہ کیا: 'میں تمہیں گلے کیسے لگا سکوں گا؟'"
ورلڈ پریس فوٹو ایوارڈ کے منتظمین نے اس تصویر کو محض ایک بچے کی تصویر نہیں بلکہ غزہ میں جاری تباہی اور انسانی المیے کی مکمل عکاسی قرار دیا۔ انہوں نے تصویر کے تکنیکی پہلوؤں، اس میں دکھائی گئی جذباتی گہرائی اور روشنی کے استعمال کی بھی بھرپور تعریف کی۔
ادارے نے مزید کہا کہ تصویر میں محمود کے مصنوعی بازو لگوانے کے خواب کو بھی بخوبی اجاگر کیا گیا ہے، جو ایک امید کی کرن اور انسان کی ناقابلِ شکست خواہشِ زندگی کا مظہر ہے۔
یہ تصویر نہ صرف جنگ کی ہولناکیوں کی داستان سناتی ہے بلکہ ایک معصوم بچے کی ناقابلِ تصور ہمت اور جستجو کو بھی دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔