ویب ڈیسک: امریکا کی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جنگ کے فیصلے پر مجبور کیا، جو امریکی عوام کی ترجیحات کے خلاف تھا۔
کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ ایک ایسی جنگ میں دھکیلے گئے جس میں امریکی عوام کی کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے نہ صرف امریکی فوجیوں کی جانیں خطرے میں پڑیں بلکہ خطے میں کشیدگی بھی بڑھ گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ عوامی امنگوں کے منافی تھا اور امریکا کو ایسے تنازعات میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہیے جو قومی مفاد کے براہ راست موافق نہ ہوں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خدشات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہے ہیں، اور مختلف حلقے سفارتی حل پر زور دے رہے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان 15 روزہ جنگ بندی میں صرف 3 دن باقی ہیں۔