ویب ڈیسک: غزہ میں 15ماہ سےجاری قتل وغارت کاسلسلہ بند ہونے کےقریب ہے، جنگ بندی کاوقت شروع ہوگیا لیکن پہلے مرحلے پرعملدرآمد میں تاخیر کے بعد اب حماس نے قیدیوں کی فہرست اسرائیل کے حوالے کردی ہے۔اسرائیلی میڈیا نے فہرست فراہم کیے جانے کی تصدیق کردی ہے۔بتایا گیا ہے کہ آج 3اسرائیلی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
پاکستانی وقت کے مطابق صبح ساڑھے 11 بجے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونا تھا جو تقریباً چار گھنٹے تاخیر کا شکار ہوا۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حماس کی جانب سے اسرائیلی مغویو ں کے ناموں کے اعلان کے بعد غزہ سیز فائر معاہدے پر باقاعدہ عمل درآمد شروع ہو گیا۔
قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی شروع ہوگئی ہے۔
غزہ کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ہزاروں فلسطینی پولیس افسران مختلف علاقوں میں تعینات کردیے گئے ہیں، میونسپلٹی نے گلیوں کو دوبارہ کھولنےاور بحالی کا کام شروع کر دیا ہے۔
لٹے پٹے فلسطینی بچے کچھے سامان کے ساتھ تباہ حال گھروں کو واپسی کے منتظر ہیں، جنگ بندی شروع ہونے سے پہلے اسرائیلی حملوں میں 33 بچوں سمیت مزید 122 فلسطینی شہید ہوگئے۔
اسرائیل نے وحشیانہ بمباری سے غزہ کی بستیاں ملیا میٹ کردیں، گھر، اسکول،کالج اور اسپتال کھنڈر بن چکے ہیں۔
دوسری جانب حماس سے جنگ بندی کے مخالف انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر بین گویر عہدے سے مستعفی ہوگئے۔
واضح رہے کہ غزہ پر پندرہ ماہ سے مسلط اسرائیلی جنگ میں فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق ہزاروں بچوں اور خواتین سمیت 47 ہزار 899 فلسطینی شہید ہوئے جب کہ ایک لاکھ دس ہزار سے زائد فلسطینی زخمی اور ہزاروں لاپتہ ہیں۔
اسرائیل نے جنگ میں حماس کےدو قائدین اسماعیل ہنیہ کو تہران،حسن نصراللہ کوبیروت اور یحییٰ سنوار کو غزہ میں شہید کیا۔
یو این ایجنسی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ آئندہ چندگھنٹوں میں جنگ بندی پرعمل درآمدکی توقع ہے، وقت قریب آنےکے ساتھ امید بڑھ رہی ہے، امید ہے بالآخربندوقیں خاموش ہوں گی اور یرغمالی اپنے پیاروں سے ملیں گے۔
انروا کے مطابق امید ہے ضرورت مندوں تک امداد اور تجارتی اشیا پہنچ پائیں گی، سب کچھ فریقین اور ان پر اثرانداز ہونے والی قوتوں کی نیک نیتی پر منحصر ہوگا۔
مصری میڈیا کے مطابق امدادی سامان سے بھرے سیکڑوں ٹرک رفع بارڈر پرپہلے ہی موجود ہیں، معاہدے کے تحت جنگ بندی کے دوران روزانہ 600 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو سکیں گے۔
اس سے قبل میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کو غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کی فہرست جاری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
حماس کی جانب سےیرغمالیوں کے ناموں کی فہرست جاری نہیں کی جارہی:اسرائیلی فوج
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے یرغمالیوں کے ناموں کی فہرست جاری نہیں کی جا رہی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ جب تک حماس اپنی ذمے داریوں کو پورا نہیں کرتی، جنگ بندی مؤثر نہیں ہوگی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج جنگ بندی کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کریں گے: حماس
حماس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ کچھ تکنیکی وجوہات کی بنا پر فہرست جاری کرنے میں تاخیر ہورہی ہے، رابطوں میں رکاوٹ کے باعث پیغام رسانی میں مشکلات ہیں، جنگ بندی معاہدے پرمکمل عملدرآمد کریں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے جنگ بندی قیدیوں کی فہرست سے مشروط کردی
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نے جنگ بندی قیدیوں کی فہرست سے مشروط کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک قیدیوں کی فہرست نہیں ملے گی جنگ بندی نہیں ہوگی۔
نیتن یاہو نے اسرائیلی فوج کوجنگ بندی سے روک دیا، لٹے پٹے فلسطینی تباہ حال گھروں میں واپسی کےمنتظر ہیں،اسرائیلی کی وحشیانہ بمباری سے بستیاں ملیا میٹ،گھر، ہسپتال، سکولز اور کالجز کھنڈر بن چکے ہیں۔
عرب میڈیا کےمطابق اسرائیلی افواج جنوبی غزہ میں رفح سٹی سے نکلنا شروع ہوگئیں،اسرائیلی فوج مصری سرحد کےساتھ فلاڈیلفی راہداری کے ساتھ موجود رہیں گی۔
واضح رہے کہ معاہدےکےتحت 33 اسرائیلیوں کو رہائی ملے گی، اسرائیل 95 فلسطینیوں کو رہا کرے گا، اسرائیلی حکام نے حماس کی قید میں موجود 33 یرغمالیوں کی تصاویر جاری کردیں۔
جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کھولی جائے گی جبکہ تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو کے معاملات طے ہوں گے۔