ویب ڈیسک:پاکستان میں معروف کار ساز کمپنی ٹویوٹا کی گاڑیوں کی قیمتوں میں 25 لاکھ روپے تک کی بڑی کمی کرنے کی وجہ سامنے آگئی۔
ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئےٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی کے سی ای او علی اصغر جمالی کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ٹیکسز کم ہونے کی وجہ سے 15 لاکھ روپے کا فرق پڑا، جبکہ 10 لاکھ روپے ہم نے اپنے مارجن میں سے دے دیا۔
سی ای او ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی کا کہنا تھا کہ اس میں سے 55 سے 65 فیصد حکومت کے ٹیکسز ہیں، 25 لاکھ قیمتوں میں کمی کی تو 15 لاکھ حکومت نے دے دیا، کیونکہ سیل ٹیکس 25 فیصد، ایف ای ڈی 10 فیصد پھر این وی، یہ سب شامل ہیں جو گاڑی کی قیمت کے اوپر لگتا ہے جب ہم نے قیمتیں کم کیں تو ٹیکسز بھی کم ہوگئے۔
انہوں نے کہاکہ ٹویوٹا کی گاڑی کی قیمت 25 لاکھ روپے تک کم ہونے پر ہر جگہ بحث ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ ٹویوٹا انڈس موٹرز نے پاکستان میں اپنی 35 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنی مقبول آف روڈ ایس یو وی، ٹویوٹا فارچیونر کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی کا اعلان کیا ہے۔
یہ حالیہ برسوں میں ملک میں کسی بھی بڑی کار کمپنی کی جانب سے کی جانے والی سب سے بڑی قیمت میں کمی ہے۔
فارچیونر جی (Fortuner G) کی قیمت میں 25 لاکھ روپے کی کمی کے بعد نئی قیمت ایک کروڑ 24 لاکھ 35 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح فارچیونر وی (Fortuner V) کی قیمت میں 25 لاکھ 70 ہزار روپے کی کمی کے بعد نئی قیمت ایک کروڑ 49 لاکھ 35 ہزار روپے ہو گئی ہے۔