اسرائیل پر داغے گئے ایرانی میزائل ’سجیل 2‘ کی رینج کتنی؟ کتنا خطرناک؟

 اسرائیل پر داغے گئے ایرانی میزائل ’سجیل 2‘ کی رینج کتنی؟ کتنا خطرناک؟

ویب ڈیسک: ایران کی جانب سے اسرائیل پر داغے جانے والے اسٹیج ٹو کے سجیل میزائل کے آسمان پر مناظر دنیا بھر میں موضوع بحث ہیں جب کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل کا دفاعی نظام کئی میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایران نے اسرائیل پر حملے کے لیے 2000 کلومیٹر اور اس سے آگے تک مار کرنے والے ’سجیل ٹو ‘ میزائل کا استعمال کیا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ جس ایرانی سجیل میزائل نے اسرائیلی علاقے ڈین بلاک کو نشانہ بنایا تھا وہ اپنے وزن اور پے لوڈ یعنی اس میں موجود دھماکا خیز مواد کی مقدار کے لحاظ سے غیر معمولی نوعیت کا تھا اور یہ معمول سے بڑا میزائل تھا، اس نوعیت کے میزائل ایران نے کم تعداد میں اسرائیل پر داغے ہیں ۔

2 مرحلوں پر مشتمل سجیل ٹو میزائل ایک ٹھوس ایندھن سے چلنے والا میزائل ہے، اس لیے اس میں ایندھن بھرنے کے لیے بہت وقت درکار ہوتا ہے  جس کا مطلب ہے کہ سجیل 2 میزائل کو لانچ کرنے کے لیے تیاری کا وقت کم ہو جاتا ہے۔ 

یہ میزائل جو ٹھوس ایندھن کے انجن پر مبنی ہے، دوسرے ایرانی میزائلوں کے مقابلے میں لانچ کرنے میں زیادہ درست اور تیز سمجھا جاتا ہے اور اس میں 500 سے 650 کلوگرام وزنی وار ہیڈ ہے۔ 

ایران زیادہ تر ملک کے مغربی حصے سے اسرائیل پر میزائل فائر کرتا ہے لیکن سجیل ٹو کی لمبی رینج کی بدولت اسے مغرب کی بجائے ملک کے کسی بھی علاقے میں موجود اڈوں سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔

سجیل کا پہلا باضابطہ اعلان ایران نے نومبر 2008 میں ایک کامیاب لانچ کے دوران کیا تھا۔ 

ایرانی حکام کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے جواب میں یہ میزائلوں کی 13 ویں لہر ہے، اسرائیلی آباد کار شیلٹرز میں رہیں یا قبضہ کی گئی زمین سے فرار ہوجائیں۔

Watch Live Public News